Skip to main contentSkip to footer

دیرکالونی حادثے کی رپورٹ تیار، سکول کی عمارت رجسٹرڈ ہی نہیں تھی

سکول کی عمارت انتہائی مخدوش تھی، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف

کیپٹل میٹروپولیٹن گورنمنٹ پشاور کے ایسٹرن زون نے دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی عمارت سے متعلق رپورٹ پیش کر دی ہے، جس کے مطابق عمارت کا نقشہ سی ایم جی پی کے ریکارڈ میں موجود نہیں تھا اور عمارت بنیادی طور پر اسکول کے لیے تعمیر نہیں کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق عمارت 2011 میں اس وقت کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹاؤن فور کے دائرہ اختیار میں تعمیر ہوئی تھی۔ عمارت اصل میں رہائشی مقاصد کے لیے بنائی گئی تھی، جس میں گراؤنڈ اور فرسٹ فلور شامل تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گراؤنڈ فلور کی دیواریں سیمنٹ کی اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھیں، جبکہ اس کی چھت لوہے کے گارڈرز پر ٹائلیں رکھ کر بنائی گئی تھی۔ فرسٹ فلور کی دیواروں پر پلستر نہیں تھا اور اس کی چھت لکڑی کے تختوں پر اینٹیں رکھ کر بنائی گئی تھی۔

نجی سکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم، 15 دن میں رپورٹ طلب

رپورٹ کے مطابق فرسٹ فلور کی چھت عارضی اور کچی تھی، جو اسکول کے استعمال کے لیے موزوں نہیں تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھت بچوں اور فرنیچر کا وزن برداشت نہ کر سکی، جس کے باعث وہ گر گئی۔ حادثے میں نجی اسکول کے ایک کلاس روم کا پچھلا حصہ منہدم ہوا۔ رپورٹ کے مطابق پلاننگ کنٹرول انسپکٹر نے عمارت کو باہر سے خطرناک دکھائی نہ دینے کے باعث اس کے بارے میں رپورٹ نہیں کی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسکولوں کی ریگولیشن، نگرانی اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری خیبر پختونخوا پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) کی ہے۔ رپورٹ میں درج اعداد و شمار کے مطابق حادثے کے وقت اسکول میں مجموعی طور پر 53 بچے موجود تھے۔ چھت گرنے کے نتیجے میں 33 بچے جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔

سانحہ دیر کالونی کی ایف آئی آر درج، ابتدائی رپورٹ کمشنر کو ارسال

6 ماہ تک اضافی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری، مرمت اور ترقیاتی کام کئے جائیں گے

اگلی پوسٹ
اجلاسوں کی اندرونی باتیں میڈیا پر لانا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے، شوکت یوسف زئی
پچھلی پوسٹ
ملتان میں گاڑی سے لڑکے کو کچلنے والا ملزم عدالت میں پیش