پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے پارٹی رہنماؤں کے حوالے سے میڈیا پر سامنے آنے والے الزامات اور پارٹی اجلاسوں کی اندرونی باتیں منظر عام پر آنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض پارٹی ارکان کی جانب سے قیادت کی کردار کشی قابل مذمت ہے۔ پارٹی اجلاسوں کی خبریں میڈیا پر آنا تشویش ناک ہے اور کسی بھی رکن کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اجلاسوں کی اندرونی کہانی میڈیا پر بیان کرے۔ شوکت یوسف زئی نے کہا کہ بعض ارکان بغض کی بنیاد پر پارٹی قیادت کو بدنام کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی میں ڈسپلن کا شدید فقدان ہے۔ انہوں نے بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ سے درخواست کی کہ وہ پارٹی میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ دونوں رہنماؤں نے مشکل وقت میں پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنمائوں نے لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو قرار دیدیا
انہوں نے محمود خان اچکزئی کے حوالے سے کہا کہ وہ قابل احترام اور سینئر پارلیمنٹیرین ہیں۔ انہیں ہٹائے جانے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایا ہے اور انہیں ہٹانے کا فیصلہ بھی عمران خان ہی کر سکتے ہیں۔ شوکت یوسف زئی نے اسد قیصر کے بھائی کو وزیراعلیٰ بنانے سے متعلق خبروں کو قطعی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے اسد قیصر کی ملاقات سے پہلے ہی علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ کے لیے نامزد ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ عمران خان نے اسد قیصر کے بھائی کو اسپیکر بنانے کی ہدایت کی تھی، تاہم بعد میں عمران خان نے ہی اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا تھا۔
اپنا گھر سکیم کیلئے دستاویزات جمع کرانے والوں کیلئے بڑی خوشخبری
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پارٹی قیادت باہمی مشاورت سے ایک مکمل اور جامع سیاسی لائحہ عمل دے۔ وہ آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ مزاحمتی سیاست نے عمران خان، پارٹی اور کارکنوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ موجودہ سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا موجودہ نظام زیادہ دیر چلتا دکھائی نہیں دے رہا۔ حکومت کے پاس کوئی واضح روڈ میپ نہیں اور نہ ہی اس کی ترجیحات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی بات کی جا رہی ہے، لیکن کریک ڈاؤن سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری ہے۔ شوکت یوسف زئی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مل کر ہی جیتی جا سکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی اور اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ پارٹی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا ناگزیر ہے اور اس کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپنی قانونی جنگ جاری رکھے گی۔ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے تحریک انصاف کو سیاسی گنجائش دینا ہوگی۔





