ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو گاڑی تلے کچل کر قتل کرنے کے افسوسناک مقدمے میں گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ پیشی کے موقع پر عدالت میں موجود وکلا نے ملزم پر گھونسوں اور مکوں سے تشدد کیا۔ واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے وکلا کے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا کہ مظلوم بچوں کے لیے آواز اٹھانا انسانیت کی علامت ہے جبکہ دیگر کا ماننا تھا کہ ظالم کے خلاف اقدام سے وکلا کا وقار بڑھا ہے۔ صارفین نے مطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کرکے متاثرہ خاندان کو قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جائے۔
سائبر کرائم شکایات میں ایک سال کے دوران 43ہزار سے زائد کا اضافہ
یاد رہے کہ اس دردناک واقعے کی ایک مبینہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی جس میں گاڑی کے ذریعہ لڑکے کا تعاقب کرنے اور اسے کچلنے کے مناظر واضح ہیں۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ دوسری جانب سی پی او اختر فاروق نے اپنے بیان میں واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے فوری کارروائی کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کیس کو مضبوط بنانے کے لیے مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے تاکہ کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور شفاف چالان تیار کر کے ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوانے کی پوری کوشش کی جائے گی





