Skip to main contentSkip to footer

نجی سکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم، 15 دن میں رپورٹ طلب

نجی سکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم، 15 دن میں رپورٹ طلب

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے دیر کالونی میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد نجی اسکولوں کی رجسٹریشن، عمارتوں کی تعمیر اور حفاظتی انتظامات سے متعلق قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے 15 دن کے اندر نئی قانون سازی سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ اس حوالے سے گورنر ہاؤس پشاور میں فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیرِ تعلیم عامر عبداللہ، کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود، ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر اور محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

سانحہ دیر کالونی کی ایف آئی آر درج، ابتدائی رپورٹ کمشنر کو ارسال

اجلاس میں کمشنر پشاور کیپٹن (ر) خالد محمود نے گورنر کو اسکول کی چھت گرنے کے واقعے اور اس سے متعلق انتظامی امور پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسکول کے مالک نے 16 مرلے اراضی دس سال کے لیے لیز پر حاصل کرکے اس پر عمارت تعمیر کی تھی۔ متعلقہ اسکول 2026 میں رجسٹرڈ ہوا، تاہم اسکول انتظامیہ نے مقررہ معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) پر عمل درآمد نہیں کیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کو انتہائی افسوسناک سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر منظور شدہ نقشوں کے تعمیر ہونے والی عمارتوں کی نشاندہی اور جانچ پڑتال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز) شہر میں عمارتوں کی جانچ پڑتال کے لیے مؤثر اقدامات کرسکتی ہیں، جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔

خیبرپختونخوا پولیس کے شہدا مالی پیکج میں بڑا اضافہ

انہوں نے ہدایت کی کہ نجی اسکولوں کے قیام اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے مقررہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ گورنر نے صوبے میں نجی اسکولوں کی رجسٹریشن اور حفاظتی انتظامات سے متعلق قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جن نجی اسکولوں کے پاس رجسٹریشن سرٹیفکیٹ موجود نہیں، ان کے خلاف کارروائی اور سزاؤں کے تعین کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ فیصل کریم کنڈی نے نجی اسکولوں کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ تعلیمی اداروں میں حفاظتی معیارات اور ضابطۂ کار پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو نجی اسکولوں سے متعلق نئی قانون سازی کے حوالے سے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ گورنر نے مزید ہدایت کی کہ نجی اسکولوں کے انتظامی معاملات میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور بہترین طریقۂ کار اپنایا جائے تاکہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جاسکیں۔

 

 

یکہ توت بڑی تباہی سے بچ گیا، 11 کلو وزنی بم ناکارہ

اگلی پوسٹ
 بی آر ٹی پشاور کے لیے مزید 27 نئی بسیں پہنچ گئیں، تعداد 296 ہوگئی
پچھلی پوسٹ
بیرسٹر گوہر، محمود اچکزئی نے ایمرجنسی کیخلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا