خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی درخواست سمیت دیگر درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں، اپوزیشن رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیا اور اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے معظم بٹ ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی جس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواستیں بھی 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے غیر آئینی اقدام کیا ہےاور خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہاں آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو اپنی منتخب حکومت کے خاتمے پر اعتراض ہے اور سیاسی مسائل کا حل آئینی طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی، سیاسی کارکنوں اور ارکان اسمبلی کی مبینہ گمشدگیوں اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے بارے میں معلومات فراہم نہ کیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کہاں ہیں، یہ جاننا عوام کا آئینی حق ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت بڑھ رہی ہے اور حکومت پر تنقید و احتجاج کو ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک چلانے میں ناکامی کے باوجود صوبے میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے، تاہم وہ ہر صورت اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
گرفتاریوں کا خوف، سہیل آفریدی کی پوری کابینہ روپوش ہوگئی





