پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے بجلی کے نظام کی مرمت، دیکھ بھال اور ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے 16 اکتوبر 2026 سے 31 مارچ 2027 تک چھ ماہ کے شٹ ڈاؤن شیڈول کی منظوری دے دی ہے۔ پیسکو نے تمام متعلقہ آپریشن، کنسٹرکشن اور گرڈ سسٹم آپریشن (جی ایس او) شعبوں کو منظور شدہ شیڈول کے مطابق کام کرنے اور بجلی کی بندش کے دوران حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔پیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے دفتر سے 15 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ مراسلے کے مطابق بجلی کی بندش سے صارفین کو ہونے والی مشکلات کم کرنے کے لیے مختلف مرمتی اور ترقیاتی کاموں کو یکجا کرکے ایک ہی تاریخ اور وقت میں انجام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ایک ہی علاقے میں بار بار بجلی بند کرنے کی ضرورت کم ہو۔ اس مقصد کے لیے فیلڈ فارمیشنز سے موصول ہونے والی پاور ٹرانسفر ورک پی ٹی ڈبلیو کی درخواستوں کو یکجا کرکے چھ ماہ کا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ حتمی شیڈول جمع کرانے کے بعد اس میں معمول کے مطابق کسی قسم کے اضافے، تبدیلی یا کام حذف کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم ہنگامی صورت حال میں اضافی یا بیک وقت پاور ٹرانسفر ورک کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس کے لیے متعلقہ شعبے کو باقاعدہ تحریری درخواست جمع کرانا ہوگی۔
جمعہ اور اتوار کو بجلی بندش سے گریز کی ہدایت
پیسکو نے ہدایت کی ہے کہ تمام منظور شدہ شٹ ڈاؤن مقررہ تاریخ اور وقت پر کیے جائیں اور متعلقہ فیلڈ فارمیشنز اپنے مرمتی و ترقیاتی کاموں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔ مراسلے کے مطابق بجلی کے نظام کی دیکھ بھال کے لیے منظور شدہ شیڈول پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہوگا۔ پیسکو نے صارفین کو غیر ضروری پریشانی سے بچانے کے لیے جمعہ اور اتوار کو بجلی کی بندش اور پاور ٹرانسفر ورک سے حتی الامکان گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان دنوں صرف ناگزیر صورت حال میں ہی بجلی بند کرکے مرمتی کام کیے جائیں، تاکہ عام صارفین کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ نوٹیفکیشن میں تمام اہم اور صنعتی صارفین، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور مقامی عمائدین کو بجلی کی طے شدہ بندش سے کافی پہلے مطلع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ افسران کو پابند کیا گیا ہے کہ مرمتی یا ترقیاتی کام شروع کرنے سے قبل ضروری اطلاعات فراہم کی جائیں تاکہ صارفین اپنے معمولات اور ضروری سرگرمیوں کے لیے بروقت متبادل انتظامات کر سکیں۔ پیسکو نے واضح کیا ہے کہ بجلی کی بندش کے دوران مرمت اور ترقیاتی سرگرمیاں انجام دیتے وقت تمام حفاظتی ضابطوں اور معیاری طریقۂ کار ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے۔ کام کے دوران سائٹ کی تصاویر متعلقہ سرکل کے فوکل پرسن، یعنی سرکل ڈی ڈی ٹی، کو فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
تین سال میں 18 لاکھ 71 ہزار پاکستانی بیرون ملک چلے گئے
مراسلے کے مطابق سرکل فوکل پرسن کام کی تصاویر اور انجام دیے گئے پاور ٹرانسفر ورک کی تفصیلات مقررہ فارمیٹ میں پیسکو ہیڈکوارٹرز کے فوکل پرسن کو ارسال کرے گا، جہاں سے یہ معلومات نیشنل ٹاسک فورس اور وزارت توانائی (پاور ڈویژن) کو مزید کارروائی اور رابطہ کاری کے لیے بھجوائی جائیں گی۔ پیسکو نے زیادہ لائن لاسز والے کیٹیگری VI اور VII کے فیڈرز کو چھ ماہ کے مرمتی شیڈول سے خارج رکھا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ان فیڈرز پر بجلی پہلے ہی روزانہ صبح 9 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک بند کی جاتی ہے، جس کا تعلق اے ٹی اینڈ سی نقصانات سے ہے۔ تاہم متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان فیڈرز پر جہاں مرمت یا ترقیاتی کاموں کے لیے حفاظتی نقطۂ نظر سے پاور ٹرانسفر ورک ضروری ہو، وہاں حسبِ ضرورت باقاعدہ پرمٹ حاصل کیا جائے۔ پی ڈی سی پیسکو کو بھی اس سلسلے میں گرڈ اسٹیشن کے عملے کو ضروری ہدایات دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پیسکو کا یہ مراسلہ متعلقہ آپریشن سرکلز، جی ایس او سرکل، کنسٹرکشن اینڈ آپریشنز کے حکام اور دیگر متعلقہ افسران کو ارسال کیا گیا ہے۔ اس کی نقول چیف آپریشن آفیسر، متعلقہ چیف انجینئرز، خیبر پختونخوا حکومت کے کمشنرز، پیسکو کے آئی ٹی اور سیفٹی شعبوں، محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا اور دیگر حکام کو بھی بھجوائی گئی ہیں۔
اکاخیل مواز کلے باڑہ کے سکول میں بچوں کی زندگیاں خطرے میں
مراسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ منظور شدہ شٹ ڈاؤن شیڈول کی بروقت تشہیر، ضروری حفاظتی اقدامات اور تمام ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ پیسکو کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں 16 اکتوبر 2026 سے 31 مارچ 2027 تک چھ ماہ کے شیڈول کی منظوری کا ذکر ہے، جبکہ اس کے ساتھ اکتوبر کے دوسرے نصف حصے، یعنی 16 سے 31 اکتوبر تک کا شیڈول متعلقہ دفاتر کو ارسال کرنے کی تصدیق کی گئی ہے
نجی سکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم، 15 دن میں رپورٹ طلب





