سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک عمران اسحاق نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں کاروبار، صنعت اور تجارت کی بحالی و ترقی کے لیے موجودہ پالیسیوں پر نظرِثانی کرتے ہوئے مثبت تبدیلیاں لائیں، تاکہ صوبے کی کاروباری برادری ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن، خیبر پختونخوا چیپٹر کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت چیئرمین مبین خان، جنرل سیکرٹری اسلم پرویز اور دیگر عہدیداران کر رہے تھے۔
تاجروں کے مسائل کے لیے فوکل پرسنز مقرر کیے جائیں گے
صدر ملک عمران اسحاق نے کہا کہ حکومت کے سخت اقدامات اور پالیسیوں کے باعث کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد چیمبر کی قیادت ہمیشہ جامع ٹیکس اصلاحات کی حمایت کرتی رہی ہے، تاہم وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو چاہیے کہ وہ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد اور کاروباری اداروں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے پر توجہ دیں۔ پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈرگسٹس ایسوسی ایشن کے وفد نے سرحد چیمبر کے نومنتخب عہدیداران کو مبارک باد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ نئی کابینہ ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز، ڈیلرز اور پروموٹرز کو درپیش مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر نعیم الرحمان، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین عاطف شہزاد اور مظہر جمیل، سابق صدور فیض محمد فیضی اور فضل مقیم خان، سیکرٹری جنرل مقتصد احسن، پی سی ڈی اے کے وائس چیئرمین نصیر الدین، ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداران، سینئر اراکین اور ادویات کے شعبے سے وابستہ تاجر بھی موجود تھے۔
پنجاب سے یومیہ 80 ہزار آٹے کے تھیلوں کی سپلائی شروع، قیمتیں کم ہوگئیں
ملک عمران اسحاق نے واضح کیا کہ ریگولیٹری پالیسیوں، اقدامات، ہدایات اور دیگر کارروائیوں پر عمل درآمد کے دوران کاروباری برادری کو ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان قومی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لہٰذا ان کی حوصلہ شکنی کرنے اور کاروبار مخالف اقدامات کے بجائے انہیں ضروری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد چیمبر کی قیادت کاروباری برادری کی بلاامتیاز خدمت پر یقین رکھتی ہے اور انفرادی طرزِ عمل کے بجائے اجتماعی سوچ، مشترکہ اقدامات اور باہمی مشاورت کو ترجیح دے گی۔ صدر سرحد چیمبر نے بتایا کہ مختلف شعبوں کے لیے فوکل پرسنز مقرر کیے جائیں گے، جو متعلقہ شعبوں سے وابستہ تاجروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں گے، ان کے مسائل کی نشاندہی کریں گے اور انہیں حل کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائیں گے۔
اضاخیل گودام میں بارش سے اربوں مالیت کی گندم خراب
انہوں نے مزید کہا کہ زمینی حقائق اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مختلف شعبوں کی ورکنگ کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی، جو کاروباری برادری کو درپیش مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حل کے لیے مناسب تجاویز پیش کریں گی۔ قبل ازیں پی سی ڈی اے خیبر پختونخوا کے چیئرمین مبین خان اور جنرل سیکرٹری اسلم پرویز نے اجلاس کو کیمسٹ برادری کو درپیش مختلف مسائل سے آگاہ کیا۔ ان مسائل میں دوہرے ٹیکسوں کا نفاذ، بشمول ٹریڈ اینڈ کالنگ ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، پی ڈی اے اور ٹی ایم اے کے ٹیکسز، کیٹیگری بی اور سی سے متعلق مسائل، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور ضلعی انتظامیہ، ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے افسران اور بعض صارفین کی جانب سے مبینہ بلاجواز کارروائیاں شامل تھیں۔ وفد نے دوہرے ٹیکسوں کے خاتمے اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے نئے افراد اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرکے ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے پر بھی زور دیا۔





