حکومت کی جانب سے ملک میں مسلسل 9ہفتے مہنگائی میں اضافے کے بعد حالیہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی اور مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار میں 0.04فیصد کمی کے دعوئوں کے باوجود اس دوران 23اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی پر جاری ہفتہ وار رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 9ہفتے مہنگائی کے بعد گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ہوئی اور مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار میں 0.04کمی ہوئی ہے اور سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار بھی کم ہوکر11.38ہوگئی
ہفتہ وار مہنگائی میں کمی کے باوجود 23 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوگئیں
ایک ہفتے میں میں 23اشیائے ضروریہ مہنگی، 7 اشیا سستی اور 21اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ حالیہ ہفتے چکن کی قیمت میں3.31فیصد، دال چنا کی قیمت میں4.97 فیصد، دال ماش کی قیمت میں 0.98فیصد، دال مسور کی قیمت میں 0.65فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں 0.42 فیصد، ڈیزل کی قیمت میں 0.47 فیصد، جلانے والی لکڑی کی قیمت میں 0.69فیصد، چائے کی قیمت میں 0.28فیصد اور آٹے کی قیمت میں 3.36فیصد اضافہ ہوا ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں چینی کی قیمتوں میں 0.62فیصد،گڑ کی قیمت میں0.36فیصد، پیازکی قیمت میں 4.90فیصد، ٹماٹر کی قیمت میں 23.05فیصد، پیٹرول کی قیمت میں 0.70فیصد اور کیلے کی قیمت میں 2.59 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
پنجاب سے یومیہ 80 ہزار آٹے کے تھیلوں کی سپلائی شروع، قیمتیں کم ہوگئیں
اعدادوشمار میں بتایا گیا کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریے کے لحاظ سے سالانہ بنیاد پر 17ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.06فیصد کمی کیساتھ 8.19فیصد، 17ہزار 733روپے سے 22ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.04فیصد کمی کیساتھ10.11فیصد رہی۔اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29ہزار 517روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.01فیصد کمی کیساتھ 8.99فیصد، 29ہزار 518 روپے سے 44ہزار 175روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار0.02فیصدکمی کیساتھ 9.54فیصد رہی۔ادارہ شماریات نے بتایا کہ 44ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی میں اضافے کی رفتار 0.06فیصد کمی کیساتھ 12.09فیصد رہی ہے۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ قرار





