Skip to main contentSkip to footer

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ قرار

Pakistan electricity prices 155 percent

بجلی کی 11 تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ ہے۔ پاورسیکٹر پر مالی دبائو کم کرنے کیلئے آپریشنل نقصانات میں کمی ناگزیر قرار دیدیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں ڈسکوز کو 282 ارب کی سبسڈی دی گئی۔ سبسڈی کے باوجود سرکلر ڈیٹ میں مزید 143 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ خراب صورتحال میں حکومت کو سالانہ 1200 ارب روپے مالی مدد دینا پڑ سکتی ہے۔ڈسکوز کے اخراجات، مالی نقصانات کم کرکیگردشی قرضے پرقابو پانے کی سفارش کی گئی ہے، آپریشنل اصلاحات کے بغیر سبسڈی دینے سے گردشی قرض کا مسئلہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق خسارے کا شکار ڈسکوز میں اصلاحات اور ٹیرف نظام میں بہتری ناگزیر ہے، بہتر صورتحال میں سرکلر ڈیٹ تقریبا 3،200 ارب روپے تک کم ہونے کا امکان ہے۔

افغان راہداری کی بندش سے پاکستان کو 85کروڑ ڈالر کا نقصان

موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں منافع 80.5 ارب روپے رہنے کا امکان ہے، خراب صورتحال میں 140 سے 170 ارب روپے تک نقصان کا امکان ہے۔نقصان والی ڈسکوز کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو مالی نقصانات بڑھنے کا خدشہ ہے، مالی خطرات میں خالص مالی آمدن کا ایک گنا سے کم ہونا اہم خطرہ ہے، لاگت کے مطابق وصولی کا تناسب 0.95 فیصد حاصل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔بجلی ٹیرف میں اصلاحات سے پاور سیکٹر کی مالی صورتحال میں بہتری متوقع ہے، ٹیرف اصلاحات سے سالانہ تقریبا 15 ارب روپے کی بچت ممکن قرار دی گئی۔رپورٹ کے مطابق حیسکو اور پیسکو بڑے مالی خسارے والی بجلی کمپنیوں میں شامل ہیں، سیپکو کی مالی صورتحال انتہائی خراب قرار، کیسکوسب سیذیادہ خسارے میں ہے۔ کیسکو کی ہر1 روپے کے خرچ کے مقابلے میں صرف 55 پیسے وصولی، کیسکو کو ہر سہہ ماہی تقریبا 23 ارب روپے نقصان کا سامنا ہے۔ صرف سبسڈی دینے سے ڈسکوز کے مالی مسائل حل نہیں ہو رہے۔فیسکو، ہیزکو، میپکو، گیپکو اور آئیسکو کی مالی حالت نسبتا بہتر ہے، بہتر ڈسکوز کا لاگت کے مقابلے وصولی کا تناسب 1.01 سے 1.06 گنا تک ہے، لیسکو اور ٹیکسو کو معمولی مالی نقصان کا سامنا ہے، بہتر صورتحال میں پورٹ فولیو کا منافع تقریبا دوگنا ہو کر 160 ارب تک پہنچ سکتا ہے۔

بلاسود قرضوں کی فراہمی 125 ارب روپے سے تجاوز کر گئی

 

متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمتیں 4درہم فی لیٹر سے تجاوز کرگئیں

اگلی پوسٹ
مکڑی انسانوں سے بھی زیادہ تیز نکلی ، سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف
پچھلی پوسٹ
ایمرجنسی یا گورنر راج؟ فیصلہ آج ہوگا ، شہباز زرداری اہم ملاقات متوقع