Skip to main contentSkip to footer

گندم کا پیداواری ہدف 3کروڑ 17لاکھ میٹرک ٹن مقرر

گندم کا پیداواری ہدف 3کروڑ 17لاکھ میٹرک ٹن مقرر

پاکستان میں مالی سال 2026-27 کے دوران گندم کی فراہمی کی صورتحال اطمینان بخش اور ضرورت کے مطابق رہنے کی توقع ہے۔ ملک میں گندم کی دستیابی کا تخمینہ 3 کروڑ 17 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن لگایا گیا ہے جبکہ مجموعی ضرورت 3 کروڑ 16 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ تفصیلات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زرعی شعبے کو درپیش مسائل سے متعلق ہدایات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہیں۔ ان مسائل میں گندم کی درآمد، گندم کی منصفانہ اور منافع بخش کم از کم امدادی قیمت کا تعین، ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی اور وافر ذخائر کے دعووں کے باوجود گندم کی قلت کی وجوہات شامل تھیں۔

افشاں خان ویمن چیمبر آف کامرس کی بلامقابلہ صدر منتخب

نظرثانی شدہ گھریلو مربوط اقتصادی سروے 2024-25 کی بنیاد پر فی کس سالانہ گندم کی کھپت 108.33 کلوگرام لگائی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس بنیاد پر 2026-27 کے لیے ملک کی گندم کی مجموعی ضرورت 3 کروڑ 16 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن بنتی ہے۔ اس میں انسانی استعمال کے لیے 2 کروڑ 91 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن، بیج اور جانوروں کی خوراک کے لیے 15 لاکھ میٹرک ٹن اور غذائی تحفظ و ہنگامی ضرورت کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم شامل ہے۔اس ضرورت کے مقابلے میں ملک میں گندم کی دستیابی کا تخمینہ 3 کروڑ 17 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن ہے۔ اس میں صوبائی فصل رپورٹنگ سروسز کے مطابق 2 کروڑ 97 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن مقامی پیداوار اور گزشتہ سال کے باقی ماندہ ذخائر کے طور پر 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم شامل ہے جس میں 10 لاکھ میٹرک ٹن ذخیرہ بھی موجود ہے۔دستاویزات کے مطابق دستیاب گندم ملک کی انسانی خوراک، بیج اور جانوروں کی خوراک کی متوقع ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ اور مارکیٹ میں استحکام کے لیے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے بھی کافی ہے۔ تاہم گندم درآمد کرنے کا فیصلہ فصل کی کٹائی کے فورا بعد مقامی قیمتوں میں اچانک اضافے کے باعث کیا گیا تاکہ اندرون ملک قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکے۔

شپنگ اخراجات میں اضافہ، پاکستانی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر

گندم کی قیمتوں کے حوالے سے وزارت نے بتایا کہ پاکستان نے وسیع تر زرعی اصلاحات اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے تحت 2024 میں مرکزی طور پر مقرر کردہ کم از کم امدادی قیمت پر سرکاری طور پر گندم کی خریداری ختم کر دی تھی۔عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 کے تحت حکومت نے بین الاقوامی درآمدی قیمتوں سے ہم آہنگ ایک معقول قیمت مقرر کی۔ یہ قیمت کراچی میں ہارڈ ریڈ ونٹر گندم کی لاگت اور مال برداری کی قیمت کی بنیاد پر طے کی گئی۔ ربیع 2025-26 کے لیے یہ قیمت تقریبا 3,500 روپے فی من تھی جس کے نتیجے میں 2026 میں گندم کی قیمتیں 2024 اور 2025 کی فصلوں کے مقابلے میں بہتر رہیں۔پالیسی کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتیں گندم کی سرکاری خریداری اور کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے کے عمل سے دستبردار ہو رہی ہیں۔ اس کے بجائے نجی شعبے کو گندم کی پیداوار، ذخیرہ، تجارت اور دیگر مراحل پر مشتمل پوری قدر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

پاکستان کی 10بڑی مصنوعات سے 19.43 ارب ڈالر کی آمدن

دستاویزات میں ڈی اے پی کھاد پر معاونت کو بھی ایک اہم پالیسی شعبہ قرار دیا گیا ہے۔ ڈی اے پی پاکستان کی بنیادی فاسفیٹ کھاد ہے اور گندم کی ابتدائی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاکستان سالانہ تقریبا 8 لاکھ میٹرک ٹن ڈی اے پی درآمد کرتا ہے جبکہ مزید 8 لاکھ میٹرک ٹن مقامی طور پر درآمد شدہ فاسفیٹ چٹان سے تیار کیا جاتا ہے۔وفاقی سطح پر پاکستان تاریخی طور پر گیس کی قیمتوں میں رعایت کے ذریعے کھاد کے شعبے کو سبسڈی دیتا رہا ہے جو 2024-25 میں تقریبا 84 ارب روپے رہی۔ تاہم دستاویزات کے مطابق یہ طریقہ کار بنیادی طور پر گیس سے تیار ہونے والی یوریا پر مرکوز تھا اور ڈی اے پی کی درآمد پر انحصار کے مسئلے کو براہ راست حل نہیں کرتا تھا۔صوبائی سطح پر پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کو کھاد سمیت زرعی مداخل خریدنے کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے۔ سندھ حکومت نے بھی ربیع 2025-26 میں گندم کے کاشتکاروں کے لیے 55 ارب روپے کی کھاد سبسڈی فراہم کی۔دستاویزات کے مطابق آئندہ ربیع سیزن 2026-27 کے لیے وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر 8 لاکھ میٹرک ٹن ڈی اے پی کھاد پر فی تھیلا 3,500 روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔تازہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی گندم پالیسی اب وافر رسد برقرار رکھنے، تزویراتی ذخائر کے تحفظ، مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام، گندم کی ویلیو چین میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور ڈی اے پی کھاد کی ہدفی سہولت کے ذریعے کاشتکاروں کی معاونت پر مرکوز ہو رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں 43ارب 51کروڑ کے 3پن بجلی منصوبوں پر پیشرفت جاری

 

پیٹرولیم ڈیلرز نے ریلیف سیکم پر پیٹرول دینے سے انکار کردیا

Next Post
ستائیس ستمبراحتجاج ، خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی سے بیانِ حلفی طلب
Previous Post
افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا، اٹلانٹک کونسل کی رپورٹ