زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق پاکستان میں ٹنل فارمنگ اختیار کرنے والے فارموں کی تعداد 58 ہزار 626 تک پہنچ گئی ہے تاہم یہ تعداد ملک بھر کے ایک کروڑ 11 لاکھ 4 ہزار زرعی فارموں کے مقابلے میں نہایت کم ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید محفوظ کاشتکاری کا فروغ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔پاکستان بیورو شماریات کی زرعی مردم شماری 2024 کی قومی رپورٹ، جو ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہوئی، کے مطابق گرین ہاس یا ٹنل فارمنگ کے تحت ملک بھر میں مجموعی طور پر 2 لاکھ 77 ہزار 283 ایکڑ رقبہ زیرِ کاشت ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹنل فارمنگ کسانوں کو موسمی پابندیوں سے ہٹ کر سبزیاں اور دیگر زیادہ منافع بخش فصلیں اگانے، موسم کی شدت سے فصلوں کو محفوظ رکھنے اور بہتر وقت پر پیداوار مارکیٹ میں لانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والے فارموں کی محدود تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں محفوظ کاشتکاری ابھی وسیع پیمانے پر رائج نہیں ہو سکی۔صوبوں کے لحاظ سے سندھ میں ٹنل فارمنگ استعمال کرنے والے فارموں کی تعداد سب سے زیادہ 23 ہزار 309 ریکارڈ کی گئی جبکہ پنجاب میں 19 ہزار 651، خیبر پختونخوا میں 11 ہزار 967، بلوچستان میں 3 ہزار 649 اور اسلام آباد میں 51 فارم اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ٹنل فارمنگ کے زیرِ استعمال رقبے کے لحاظ سے پنجاب 96 ہزار 999 ایکڑ کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا۔ سندھ میں 73 ہزار 540 ایکڑ، خیبر پختونخوا میں 65 ہزار 757 ایکڑ، بلوچستان میں 40 ہزار 763 ایکڑ جبکہ اسلام آباد میں 223 ایکڑ رقبہ ٹنل فارمنگ کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔
اپر اور لوئر چترال میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام شدید متاثر
رپورٹ میں زمین کی ملکیت کے لحاظ سے بھی اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔ مجموعی 2 لاکھ 77 ہزار 283 ایکڑ محفوظ کاشتکاری میں سے 2 لاکھ 34 ہزار 381 ایکڑ مالک کسانوں، 25 ہزار 215 ایکڑ مشترکہ مالک و مزارع کسانوں اور 17 ہزار 687 ایکڑ مزارع کسانوں کے زیرِ استعمال ہے۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن کسانوں کو اپنی زمین پر زیادہ مستحکم حق حاصل ہے، وہ ٹنل فارمنگ میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ ہیں، کیونکہ اس نظام کے لیے ڈھانچے، پلاسٹک شیٹس، آبپاشی کے نظام اور فصلوں کی دیکھ بھال پر ابتدائی اخراجات درکار ہوتے ہیں جبکہ غیر مستقل زمین رکھنے والے کسانوں کے لیے ایسی سرمایہ کاری نسبتا مشکل ثابت ہوتی ہے۔فارموں کے حجم کے اعتبار سے 2.5 سے 5 ایکڑ تک کے فارموں میں ٹنل فارمنگ سب سے زیادہ رائج پائی گئی جہاں 16 ہزار 559 فارم اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہے ہیں۔
یورپی اتحاد کا پاکستان کیلئے40کروڑ یورو کی مالی معاونت کا اعلان
ایک سے ڈھائی ایکڑ تک کے 13 ہزار 947 اور 5 سے ساڑھے 7 ایکڑ تک کے 9 ہزار 722 فارم بھی ٹنل فارمنگ استعمال کر رہے ہیں۔دوسری جانب، 100 ایکڑ یا اس سے بڑے فارموں کی تعداد اگرچہ صرف 298 ہے، تاہم ان کے زیرِ ٹنل فارمنگ رقبے کا حجم 18 ہزار 258 ایکڑ ریکارڈ کیا گیا جو بڑے فارموں کی نمایاں سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹنل فارمنگ کسانوں کو زیادہ منافع بخش پیداوار اور فصلوں کے موسم پر بہتر کنٹرول فراہم کر سکتی ہے، جبکہ صارفین کے لیے سبزیوں کی سال بھر دستیابی بہتر بنانے اور موسمی قیمتوں میں اتار چڑھا کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم مردم شماری کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ملک میں وسیع پیمانے پر عام نہیں ہو سکی۔رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ محفوظ کاشتکاری کے فروغ کے لیے کسانوں کو آسان قرضوں، رہنمائی، پانی کی بچت والے آبپاشی نظام اور منڈیوں تک بہتر رسائی کی سہولت فراہم کرنا آئندہ پالیسی کا اہم تقاضا ہوگا، بصورت دیگر ٹنل فارمنگ صرف ان کسانوں تک محدود رہ سکتی ہے جو پہلے ہی اس میں سرمایہ کاری کی استطاعت رکھتے ہیں۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام کے اخراجات 916.02ارب روپے تک پہنچ گئے
جون میں گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ

