Skip to main contentSkip to footer

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر میں 3ہزار سال پرانا مقبرہ دریافت کرلیا

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر میں 3ہزار سال پرانا مقبرہ دریافت کرلیا

ماہرین آثارِ قدیمہ نے مصر میں 3 ہزار سال پرانا مقبرہ دریافت کرلیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے مصر کے جنوبی شہر لکسور کے قریب 3 ہزار سال پرانا ایک مقبرہ دریافت کیا ہے۔ مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نیلکسور کے مغربی کنارے پر “پاسر” نامی شخص سے منسوب یہ مقبرہ دریافت کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبرہ رامیسائی دور سے تعلق رکھتا ہے، جو مصر کے انیسویں اور بیسویں شاہی خاندانوں کے زمانے پر مشتمل ہے۔

 

اس کا تعین مقبرے پر موجود نقوش اور فنِ تعمیر کے انداز کی بنیاد پر کیا گیا۔یہ مقبرہ نیو کنگڈم (1570 تا 1069 قبل مسیح) کے نجی تھیبن مقبروں کے روایتی طرز پر تعمیر کیا گیا۔ اس میں ایک کھلا صحن، الٹے انگریزی حرف “T” کی شکل کی چٹان تراش عبادت گاہ اور زمین کے نیچے بنائے گئے کمرے شامل ہیں۔ماہرین کو صحن میں کئی محفوظ تعمیراتی آثار بھی ملے، جن میں کچی اینٹوں سے بنی ایک نشست، جہاں یادگاری کتبہ رکھا جاتا تھا، اور داخلی راستے تک جانے والی سیڑھیاں شامل ہیں جن کے دونوں جانب راستے بنائے گئے تھے۔تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ مقبرے کی مزید دستاویز بندی اور تحقیق جاری رہے گی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہاں کس شخصیت کو دفن کیا گیا تھا اور اس کی تاریخی و آثارِ قدیمہ کی اہمیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3ارب افراد بھوکے سوتے ہیں

 

یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصر نئی آثارِ قدیمہ کی دریافتوں کو اجاگر کر کے سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جو ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔واضح رہے کہ لکسور دنیا کے اہم ترین قدیم آثار اور تاریخی مقامات کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

گرمی سے بچانے کیلئے انسانوں کیلئے فریج تیار

 

 

سو سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے پنجابی فوجیوں کو جنگی شہدا ء کا درجہ مل گیا

Previous Post
ملک بھر میں ٹنل فارمنگ 58ہزار 626فارموں تک محدودہوگئی