جاپان میں حالیہ دنوں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور حکومت کی جانب سے ہیٹ اسٹروک الرٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر 2 جاپانی کمپنیوں نے شدید گرمی سے نمٹنے کیلئے انسانی فریج تیار کرنے کا منصوبہ پیش کردیا ہے ۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق ان کمپنیوں نے پرسنل کولنگ باکس تیار کیا ہے تاکہ ہیٹ ویو سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔اس کی قیمت 15 لاکھ جاپانی ین رکھی گئی ہے اور لوگ اسٹین لیس اسٹیل سے بنے باکس یا ڈبے کے اندر موجود کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کے بعد طاقتور ٹھنڈی ہوائیں خارج ہوتی ہیں جو سر، گردن، کندھوں اور کمر کا درجہ حرارت 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم کردیتی ہیں جس سے مجموعی جسمانی درجہ حرارت گھٹ جاتا ہے۔یہ انسانی فریج 15 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کو برقرار رکھتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک چلنے کے بعد خودکار طور پر بند ہو جاتا ہے۔84 انچ لمبے اور 47 انچ چوڑے فریج کو ایک گھنٹے تک چلانے پر 16 ین خرچ ہوتے ہیں جبکہ یہ ائیرکنڈیشنر کے مقابلے پر کم بجلی خرچ کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ پورٹ ایبل ڈیوائس پورے جسم کو ٹھنڈا کرنے کا کام کرتی ہے اور روایتی ائیر کنڈیشنر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جسم کو ٹھنڈا کرتی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ اسے کہیں بھی لے جایا جاسکتا ہے اور ایسی جگہوں پر رکھا جاسکتا ہے جہاں کام کرنے والے افراد کو شدید گرم موسم میں کام کرنا ہوتا ہے۔کمپنی نے دعوی کیا کہ اس میں بیٹھنے والے فرد کا جسم 5 منٹ کے اندر نمایاں حد تک ٹھنڈک محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کے اندر 10 منٹ گزارنے سے ہیٹ ویوز کی علامات کی شدت گھٹ جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق انسانی فریج کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ برقرار رکھا جاتا ہے تاکہ جسم کو محفوظ انداز میں ٹھنڈا کیا جا سکے۔ حفاظتی نقطہ نظر سے اس مشین کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک مسلسل چلنے کے بعد خودکار طور پر بند ہو جاتی ہے تاکہ جسم کا درجہ حرارت ضرورت سے زیادہ کم نہ ہو اور صحت پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ یہ جدید کولنگ باکس 84 انچ لمبا اور 47 انچ چوڑا ہے، جس میں ایک بالغ شخص آرام سے بیٹھ سکتا ہے۔
ال نینو نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس ڈیوائس کو ایک گھنٹے تک چلانے پر صرف 16 جاپانی ین کے برابر بجلی خرچ ہوتی ہے، جو روایتی ائیر کنڈیشنر کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے توانائی کی بچت کرنے والی ماحول دوست ٹیکنالوجی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق روایتی ائیر کنڈیشنر پورے کمرے کو ٹھنڈا کرتا ہے، جس میں زیادہ بجلی خرچ ہوتی ہے، جبکہ یہ پرسنل کولنگ باکس صرف ایک فرد کے جسم کو براہ راست ٹھنڈا کرتا ہے۔ اسی لیے نہ صرف توانائی کی بچت ہوتی ہے بلکہ جسم بھی نسبتاً کم وقت میں زیادہ مؤثر انداز میں ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اس ڈیوائس میں بیٹھنے والا شخص صرف 5 منٹ کے اندر واضح ٹھنڈک محسوس کرنے لگتا ہے جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اندر رہنے سے ہیٹ ویو یا شدید گرمی کی علامات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے افراد جو دھوپ میں مسلسل کام کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ڈیوائس انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ اس جدید انسانی فریج کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اسے مختلف مقامات پر آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اسے تعمیراتی مقامات، فیکٹریوں، گوداموں، کھیلوں کے میدانوں، صنعتی علاقوں، بندرگاہوں، کان کنی کے منصوبوں، زرعی فارموں اور دیگر ایسی جگہوں پر رکھا جا سکتا ہے جہاں ملازمین کو شدید گرمی میں کئی گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔
دنیا میں ہر دسواں شخص انتہائی غریب، 2.3ارب افراد بھوکے سوتے ہیں
ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک اس وقت ہوتا ہے جب انسانی جسم اپنا درجہ حرارت قدرتی طور پر کم کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں چکر آنا، بے ہوشی، شدید کمزوری، تیز دل کی دھڑکن، سانس لینے میں دشواری اور بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ہر سال ہزاروں افراد شدید گرمی کے باعث اسپتال منتقل کیے جاتے ہیں۔ جاپانی حکومت گزشتہ چند برسوں سے شہریوں کو شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننے اور ٹھنڈی جگہوں پر رہنے کی ہدایات جاری کرتی رہی ہے۔ رواں سال بھی گرمی کی شدت میں اضافے کے بعد مختلف شہروں میں ہیٹ اسٹروک الرٹ جاری کیے گئے تاکہ عوام احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیہ دونوں بڑھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک ایسی نئی ٹیکنالوجیز تیار کر رہے ہیں جو نہ صرف انسانی جانوں کو محفوظ بنا سکیں بلکہ توانائی کی بچت بھی کریں۔ جاپان پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے اور یہ نیا انسانی فریج بھی اسی سلسلے کی ایک منفرد مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹائی ٹینک حادثے سے چند روز قبل لکھا گیا نایاب خط نیلامی کیلئے پیش
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ڈیوائس شدید گرمی میں فوری ٹھنڈک فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اسے عام احتیاطی تدابیر کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ گرمی کے موسم میں مناسب مقدار میں پانی پینا، الیکٹرولائٹس کا استعمال، دھوپ سے بچاؤ، وقفے وقفے سے آرام کرنا اور جسمانی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا اب بھی ضروری ہے۔ کمپنی کے مطابق مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے تاکہ اسے زیادہ ہلکا، کم قیمت اور عام صارفین کی پہنچ میں لایا جا سکے۔ منصوبے کے اگلے مرحلے میں ایسے ماڈلز متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے جو دفاتر، شاپنگ مالز، ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز اور عوامی مقامات پر بھی نصب کیے جا سکیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد شدید گرمی کے دوران فوری طور پر جسمانی درجہ حرارت کم کر سکیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں دنیا کے دیگر گرم ممالک بھی اسی طرز کی ٹیکنالوجی اختیار کر سکتے ہیں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں گرمی کی شدت ہر سال نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ جاپانی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا تیار کردہ انسانی فریج نہ صرف ہیٹ ویو کے خطرات کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ شدید گرمی میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ایک محفوظ، مؤثر اور توانائی کی بچت پر مبنی جدید حل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
دوستوں کو دبئی بلائیں، 3000 درہم کا فائدہ اٹھائیں

