ٹائی ٹینک حادثے سے چند روز قبل لکھا گیا نایاب خط نیلامی کے لیے پیش کردیا، جو ٹائی ٹینک کے یادگار سفر کے دوران لکھا گیا تھا۔برطانوی اخباردی انڈیپنڈنٹ کے مطابق نایاب خط کی 35ہزار پائونڈ میں فروخت ہونے کی توقع ہے،جس میں جہاز میں مسافروں کی روزمرہ زندگی کے بارے میں لکھا تھا۔چٹھی کے مصنف ٹائی ٹینک کے حادثے میں جان کی بازی ہار گئے تھے جس کے باعث اس تاریخی دستاویز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ خط ٹائی ٹینک کے یادگار پہلے اور آخری سفر کے دوران ایک مسافر نے اپنے اہل خانہ کے نام تحریر کیا تھا۔ خط میں جہاز کے شاندار ماحول، پرتعیش سہولیات، روزمرہ معمولات اور دیگر مسافروں کی سرگرمیوں کا تفصیلی ذکر موجود ہے، جس سے اس دور کی سمندری سفر کی زندگی کو قریب سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
خط میں کن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے؟
خط کے مصنف نے اپنی تحریر میں جہاز کے آرام دہ کمروں، کھانے پینے کے بہترین انتظامات، عملے کے خوش اخلاق رویے اور سمندر کے دلکش مناظر کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے سفر کے تجربات اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بھی اپنے اہل خانہ کو آگاہ کیا تھا، تاہم انہیں اس بات کا ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ چند ہی روز بعد یہ سفر انسانی تاریخ کے المناک ترین بحری حادثوں میں تبدیل ہو جائے گا۔
اس تاریخی خط کی اہمیت اس وجہ سے بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے کہ اس کے مصنف ٹائی ٹینک کے حادثے میں جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد یہ خط ان کی زندگی کی آخری یادگار تحریروں میں شمار ہونے لگا، جسے بعد ازاں خاندان نے محفوظ رکھا۔ اب کئی دہائیوں بعد اسے عوامی نیلامی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
مریخ پر زندگی کے مزید بنیادی اجزا دریافت
تاریخی دستاویزات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائی ٹینک سے متعلق اصل خطوط نہایت کم تعداد میں موجود ہیں، کیونکہ جہاز کے ڈوبنے کے باعث مسافروں کی بیشتر ذاتی اشیا سمندر کی تہہ میں دفن ہو گئیں یا وقت کے ساتھ ضائع ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ محفوظ رہ جانے والی ہر اصل دستاویز تاریخی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آر ایم ایس ٹائی ٹینک اپنے زمانے کا دنیا کا سب سے بڑا اور جدید ترین مسافر بردار جہاز تھا، جس نے 10 اپریل 1912ء کو انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن سے امریکہ کے شہر نیویارک کے لیے اپنا پہلا سفر شروع کیا تھا۔ تاہم 14 اپریل 1912ء کی رات شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک برفانی تودے (آئس برگ) سے ٹکرانے کے بعد جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور 15 اپریل کی صبح یہ سمندر برد ہو گیا۔ اس سانحے میں جہاز پر سوار تقریباً 2,200 افراد میں سے 1,500 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ صرف چند سو مسافروں اور عملے کے ارکان کو بچایا جا سکا۔ یہ حادثہ آج بھی دنیا کی تاریخ کے بدترین بحری سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔
وہ پرانے آئی فونز جن پر بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا
نیلامی کرنے والے ماہرین کے مطابق توقع ہے کہ ٹائی ٹینک سے وابستہ یہ نایاب خط دنیا بھر کے کلیکٹرز، عجائب گھروں اور تاریخی نوادرات جمع کرنے والوں کی بھرپور توجہ حاصل کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی اصل دستاویزات نہ صرف ماضی کی اہم یادگار ہوتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تاریخی ریکارڈ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ٹائی ٹینک سے متعلق یادگار اشیا، خطوط، تصاویر اور ذاتی سامان کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ موجود ہے، کیونکہ یہ دستاویزات اس المناک سفر کے انسانی پہلو کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نایاب خط کے نیلامی میں اندازوں سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
بھارت میں 7 آدم خور شیروں نے تباہی مچادی، درجنوں افراد ہلاک
اکتالیس کروڑ برس پرانے دنیا کے سب سے بڑے بچھو کی باقیات دریافت

