Skip to main contentSkip to footer

خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کیا ہے؟ اہم نکات سامنے آگئے

خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ کیا ہے؟ اہم نکات سامنے آگئے

خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 کے اہم نکات سامنے آگئے۔ ایکٹ کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی، آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت خوش نہ ہو تو ان کے تبادلے کے لئے وفاق سے مزید نام مانگے جا سکتے ہیں۔ ایکٹ کے مطابق آئی جی کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹر بطور آئی جی چارج سنبھالیں گے، ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلے ہوم سیکریٹری کریں گے۔ایکٹ کے تحت ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے وزیراعلیٰ کریں گے، ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی کا اعلامیہ محکمہ انتظامیہ جاری کرے گا۔ایکٹ کے مطابق کسی بھی قانونی معاملے میں پولیس اپنا جواب براہِ راست جمع نہیں کرے گی، محکمہ قانون اور اے جی آفس کی جانب سے منظور شدہ جواب پولیس جمع کرائے گی۔ ایکٹ کے تحت محکمہ پولیس کی تمام پوسٹنگز اور تبادلوں کا اختیار صوبائی حکومت کو تفویض کیا جائے گا

پولیس پالیسی بورڈ کی صدارت آئی جی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو منتقل کی جائے گی۔ ایکٹ کے تحت پولیس کی تمام آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیاں بنانے کا اختیار اب وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا، انتظامی امور سے متعلق تمام پالیسیاں بھی صوبائی حکومت کے احکامات کے تابع ہوں گی۔ذرائع کے مطابق گریڈ 18 سے گریڈ 20 تک کے پولیس افسران کی سطح پر صلاحات کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، تاہم بعض سینئر افسران نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مجوزہ ایکٹ کے تحت وزیراعلیٰ کو اضافی اختیارات دیے گئے اور آئی جی پولیس کے اختیارات میں کمی کی گئی تو متعدد سینئر افسران صوبہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان پولیس سروس (PSP) گروپ کے بعض افسران نے ایف آئی اے اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) میں جانے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ صوبے میں تعینات بعض ڈی پی اوز بھی پنجاب اور اسلام آباد میں تبادلے کے لیے تیار ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیاسی مداخلت اور ممکنہ ادارہ جاتی تبدیلیوں کے باعث افسران میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف افسران کی کمی کا خدشہ ہے بلکہ صوبے میں نیا انتظامی خلا بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ افسران کے ممکنہ تبادلوں اور صوبہ چھوڑنے سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

افغان طالبان کی ڈرون دراندازی ناکام، پاکستانی حدود میں داخل

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں پولیس ایکٹ 2026 کے ڈرافٹ کی منظوری دیدی گئی ۔مجوزہ ایکٹ کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی،آئی جی کی کارکردگی سے صوبائی حکومت خوش نہ ہو تو انکے تبادلے کیلئے وفاق سے مزید نام مانگے جا سکتے ہیں، آئی جی کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر بطورآئی جی چارج سنبھالیں گے، ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلے ہوم سیکریٹری کریں گے، ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے وزیراعلی کا اختیارہوگا،ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی کا اعلامیہ محکمہ انتظامیہ جاری کرے گا۔کسی بھی قانونی معاملے میں پولیس اپنا جواب براہِ راست جمع نہیں کرے گی،محکمہ قانون اور اے جی آفس کی جانب سے منظور شدہ جواب پولیس جمع کرے گی، پولیس پالیسی بورڈ کی صدارت آئی جی سے وزیراعلی خیبرپختونخوا کو منتقل ہو گی، پولیس کی تمام آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیاں بنانے کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا، انتظامی امور سے متعلق تمام پالیسیاں بھی صوبائی حکومت کے احکامات کے تابع ہوں گی۔

یورپ جانے کی خواہش، 4برس کے دوران 335 پاکستانی سمندر کی نذر ہوگئے

ایکٹ کے تحت پولیس کی تمام آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیاں بنانے کا اختیار اب وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا، انتظامی امور سے متعلق تمام پالیسیاں بھی صوبائی حکومت کے احکامات کے تابع ہوں گی۔گریڈ 18 سے گریڈ 20 تک کے پولیس افسران کی سطح پر مجوزہ اصلاحات کے حوالے سے مشاورت جاری ہے، تاہم بعض سینئر افسران نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ اگر مجوزہ ایکٹ کے تحت وزیراعلیٰ کو اضافی اختیارات دیے گئے اور آئی جی پولیس کے اختیارات میں کمی کی گئی تو متعدد سینئر افسران صوبہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پاکستان پولیس سروس گروپ کے بعض افسران نے ایف آئی اے اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) میں جانے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ صوبے میں تعینات بعض ڈی پی اوز بھی پنجاب اور اسلام آباد میں تبادلے کے لیے تیار ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق سیاسی مداخلت اور ممکنہ ادارہ جاتی تبدیلیوں کے باعث افسران میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف افسران کی کمی کا خدشہ ہے بلکہ صوبے میں نیا انتظامی خلا بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ افسران کے ممکنہ تبادلوں اور صوبہ چھوڑنے سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر فضل شکور کو کیوں اغوا کیا گیا؟ عدالت میں درخواست دائر

صوبائی وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کابینہ کے اہم فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نئے قانون کے تحت پولیس کو عوام کے سامنے مزید جوابدہ بنانے کے ساتھ ساتھ تفتیشی نظام کو مضبوط، افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کو بہتر اور پولیس کے پالیسی اور عملی امور کو الگ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد نئے قانون کے تحت صوبے میں ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینات کیے جائیں گے جس سے تفتیشی نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد پولیس کی تفتیشی صلاحیت اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مجوزہ قانون کے تحت پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے نظام میں بھی مزید جوابدہی لائی جائے گی، خصوصا ریجنل پولیس افسران اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کو خیبر پختونخوا رولز آف بزنس 1985 کے تحت منظم کیا جائے گا۔شفیع جان نے کہا کہ پولیس افسران کی ترقی میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ترقی، فاسٹ ٹریک پروموشن اور براہ راست بھرتی کے کوٹے کو ازسرنو متوازن کیا جائے گا۔

آئندہ سال تاریخ کا گرم ترین سال ہوگا، ماہرین نے خبردار کردیا

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے پولیس فورس میں افسران کی ترقی کے مواقع بڑھیں گے اور کیریئر میں پیش رفت کا ایک بہتر نظام قائم ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت پولیس کے پالیسی اور آپریشنل امور کو الگ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پولیس پالیسی بورڈ قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی وزیراعلی کریں گے، جبکہ پولیس آپریشنز بورڈ کی سربراہی صوبائی پولیس افسر (آئی جی) کریں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مجوزہ قانون میں صوبائی پولیس افسر کے لیے کارکردگی کی بنیاد پر جوابدہی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ غیر تسلی بخش کارکردگی کی صورت میں صوبائی حکومت کو صوبائی پولیس افسر کی خدمات واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس افسر سالانہ پولیسنگ پلان تیار کرکے منظوری کے لیے پولیس پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کرنے کا پابند ہوگا۔ اس پلان میں پولیس کی ترجیحات، کارکردگی اور آئندہ کے اقدامات شامل ہوں گے۔شفیع جان نے کہا کہ نئے قانون میں صوبے بھر میں ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز کے لئے کا واضح طریقہ کار بھی شامل کیا گیا ہے، کیونکہ اس حوالے سے موجودہ قانونی نظام میں واضح طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور یکساں نظام کو یقینی بنانے کے لیے تمام موجودہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز تحلیل کرکے نئے قانون کے تحت ازسرنو تشکیل دی جائیں گی۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا اسٹیمپ (ترمیمی) بل 2026 کی بھی منظوری دی۔ اس کے علاوہ پشاور واٹر سپلائی اسکیم کے تحت ان ٹیک اسٹرکچر اور ٹنل (ڈے لائٹ تک) کی نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری بھی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ضلع چترال میں اسپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر کے لیے اے ڈی پی اسکیم کے تحت اراضی کے حصول کی مد میں بقیہ مختص رقم جاری کرنے اور ضمنی گرانٹ کی منظوری بھی دی۔کابینہ اجلاس میں صوبائی کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کی۔

گھی اور کوکنگ آئل کی کم از کم ریٹیل قیمتیں مقرر

 

اسمبلیاں توڑنے کی بات محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں ڈالی’ محمودخان

Next Post
اسلام آباد، پنڈی، اٹک میں 50 ہزار پولیس اہلکار تعینات
Previous Post
افغان طالبان کی ڈرون دراندازی ناکام، پاکستانی حدود میں داخل