ال نینو اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2027 کے دنیا کا گرم ترین سال بننے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔عالمی موسمیاتی تنظیم ڈبلیو ایم او کے مطابق 2026 کے آخر میں بننے والا مضبوط ال نینو عالمی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے، اور اس کے اثرات 2027 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ڈبلیو ایم او کے مطابق 2026 سے 2030 کے دوران 2024 کا موجودہ عالمی درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان 86 فیصد ہے۔ماہرین کے مطابق ال نینو کے عروج کا اثر عموما اگلے سال عالمی درجہ حرارت پر زیادہ نمایاں ہوتا ہے، اسی لیے 2027 خاص طور پر اہم سال بن گیا ہے۔موجودہ پیش گوئیوں میں 2027 کے دوران شدید گرمی، خشک سالی، بارشوں کے غیر معمولی نمونوں اور دیگر انتہائی موسمی واقعات کے خطرات بڑھنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
واٹس ایپ نے صارفین کا بڑا درد سر ختم کر دیا
اس حوالے سے سامنے آنیوالی پیشگوئی میں کہا گیا ہے کہ بحر الکاہل میں طاقتور شکل اختیار کرنے والا موسمیاتی نظام ایل نینو اب سپر ایل نینو میں تبدیل ہو رہا ہے جو پوری دنیا کے موسم کو تبدیل کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہر 2 سے 7 سال کے دوران بننے والا موسمیاتی نظام ایل نینو وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندروں کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتا ہے،اس سال کاایل نینو پانی کی سطح کے درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافے کے باعث جون میں بننا شروع ہوا تھا، اس موسمیاتی نظام کی اوسطا عمر ڈیڑھ سال یا 18 مہینے کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ یہ موسمیاتی نظام اب ایک طاقتور شکل اختیار کر کے سپر ایل نینو میں تبدیل ہو چکا ہے، اگلے سال 2027 کے شروع میں سپر ایل نینو اپنی طاقت کے عروج پر ہونے کا اندیشہ ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ یہ اب تک کے سب سے طاقتور سپر ایل نینو میں سے ایک ہوگا۔ دوسری جانب امریکی محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ سپر ایل نینو کے تحت ایک طرف مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا میں انتہائی شدید بارشیں ہوسکتی ہیں جبکہ دوسری طرف اسی موسمیاتی سسٹم کی وجہ سے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں شدید خشک سالی کا خطرہ ہے،اسی ایل نینو کا شکار رواں برس بھارت اور پاکستان رہے جہاں مون سون کی بارشیں توقع سے کم رہی ہیں۔
آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان پہلے نمبر پر آگیا
مانچسٹر میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ زمین ریکارڈ گرم سطح کی جانب تیزی کے ساتھ سفر کر رہی ہے۔ 2027 میں درجہ حرارت ماضی کی نسبت مزید بڑھنے کے واضح امکانات موجود ہیں، سال 2024 کے بعد رواں برس دوسرا گرم ترین سال بننے کی راہ پر ہے۔ پہلے 8 ماہ کے دوران گرمی میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے، رواں سال کے اگلے چند ماہ کے دوران اوسط درجہ حرارت میں بھی اضافہ متوقع ہے جبکہ اگلے سال یہ گرمی کی لہر مزید شدت اختیار کر جائے گی۔محکمہ موسمیات کے ماہرین کا دعوی ہے کہ ممکنہ طور پر سال 2026 اب تک کا گرم ترین سال رہے گا، بحر الکاہل میں سطح سمندر درجہ حرارت کے ساتھ بڑھا ہے۔جنوری 2027 میں ماضی کی نسبت زیادہ گرم موسم کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے لیے تیاریوں کی ضرورت ہو گی۔ کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اگست 2026 بھی ریکارڈ پر گرم ترین سطح پر رہا ہے۔

