خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے باوجود سی ٹی ڈی نفری، مستقل عملے، انفرا اسٹرکچر اور وسائل کے لحاظ سے بلوچستان سے پیچھے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق پختونخوا میں سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کے لیے بھرتیوں، دفاتر اور گاڑیوں کی فراہمی پر کام جاری ہے۔ پولیس دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا سی ٹی ڈی کی مجموعی نفری 3 ہزار 844 ہے، تاہم مستقل ملازمین کی تعداد صرف 25 ہے، جبکہ تقریبا 2 ہزار 976 اہلکار پولیس سے حاصل کیے گئے ایگزیکٹو عملے پر مشتمل ہیں۔اس کے مقابلے میں بلوچستان سی ٹی ڈی میں 5 ہزار 540 اہلکار تعینات ہیں جن میں 1 ہزار 827 مستقل ملازمین شامل ہیں۔ پنجاب میں سی ٹی ڈی کی مجموعی نفری 6 ہزار 53 ہے جن میں 2 ہزار 153 مستقل اہلکار ہیں۔
دستاویزات کے مطابق فرق کہاں ہے ؟
دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کا کوئی مستقل ضلعی دفتر موجود نہیں، اگرچہ 21 ضلعی دفاتر اور 15 میں سے 12 ریجنل ہیڈکوارٹرز تعمیر کیے جا چکے ہیں جبکہ پشاور ریجنل ہیڈکوارٹر کی تعمیر جاری ہے۔ سی ٹی ڈی کا صوبائی ہیڈکوارٹر تاحال پولیس لائنز کی عارضی عمارت میں قائم ہے۔وسائل کے حوالے سے بھی خیبرپختونخوا پیچھے ہے۔ سی ٹی ڈی کے پاس صرف 17 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں ہیں، جبکہ بلوچستان کے پاس 42 اور پنجاب کے پاس 76 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں موجود ہیں۔دستاویزات کے مطابق آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے 97 نئی گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں جن میں 60 بلٹ پروف گاڑیاں شامل ہوں گی، جبکہ 638 مستقل فیلڈ آپریٹرز کی بھرتی کا عمل بھی جاری ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے کیا متنازعہ بیان دیا؟ ردعمل بھی سامنے آگیا
رپورٹ میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر مستقل نفری، محفوظ گاڑیوں اور جدید وسائل کی کمی کو سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے لیے ایک بڑا آپریشنل چیلنج قرار دیا گیا ہے۔دستاویزات میں انفراسٹرکچر سے متعلق بھی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کا تاحال کوئی مستقل ضلعی دفتر موجود نہیں۔ اگرچہ صوبے میں 21 ضلعی دفاتر اور 15 میں سے 12 ریجنل ہیڈکوارٹرز کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ پشاور ریجنل ہیڈکوارٹر کی تعمیر کا کام جاری ہے، تاہم سی ٹی ڈی کا صوبائی ہیڈکوارٹر اب بھی پولیس لائنز پشاور کی عارضی عمارت میں قائم ہے، جسے مستقل انتظامی مرکز میں منتقل نہیں کیا جا سکا۔ آپریشنل وسائل کے حوالے سے بھی خیبرپختونخوا کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کمزور قرار دیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے پاس اس وقت صرف 17 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں موجود ہیں، جبکہ بلوچستان کے پاس 42 اور پنجاب کے پاس 76 بلٹ پروف ڈبل کیبن گاڑیاں دستیاب ہیں۔ ماہرین کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں کارروائیوں کے دوران محفوظ گاڑیوں کی دستیابی اہلکاروں کی جانوں کے تحفظ اور آپریشنز کی کامیابی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
افغانیوں کی بے دخلی جاری، مزید 3841 کو واپس بھیج دیا گیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کی آپریشنل استعداد بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں 97 نئی گاڑیاں خریدنے کا عمل جاری ہے، جن میں 60 بلٹ پروف گاڑیاں شامل ہوں گی۔ ان گاڑیوں کی فراہمی سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کو بہتر تحفظ اور نقل و حرکت کی سہولت میسر آئے گی۔ اسی طرح سی ٹی ڈی کی مستقل افرادی قوت میں اضافے کے لیے 638 مستقل فیلڈ آپریٹرز کی بھرتی کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق نئی بھرتیوں سے محکمہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور عارضی طور پر تعینات پولیس اہلکاروں پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔ سرکاری دستاویزات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات، شدت پسند حملوں اور سیکیورٹی چیلنجز سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل رہا ہے۔ ایسے حالات میں سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ، محفوظ گاڑیوں، مستقل تربیت یافتہ نفری، جدید ٹیکنالوجی، فرانزک سہولیات اور مضبوط انفراسٹرکچر کی اشد ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں یقینی بنائی جا سکیں۔
بلیو پاسپورٹ سے کن کن شخصیات نے فائدہ اٹھایا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ محکمہ کی استعداد بڑھانے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، تاہم مستقل نفری، محفوظ گاڑیوں، جدید وسائل اور مکمل انفراسٹرکچر کی کمی اب بھی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے لیے ایک بڑا آپریشنل چیلنج ہے۔ دستاویزات کے مطابق ان منصوبوں کی بروقت تکمیل نہ صرف محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی بلکہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
تہکال پایان میں آتشزدگی، میاں بیوی اور چار بچے جاں بحق

