Skip to main contentSkip to footer

مولانا فضل الرحمن نے کیا متنازعہ بیان دیا؟ ردعمل بھی سامنے آگیا

مولانا فضل الرحمن کے متنازعہ بیان پر سیاسی ردعمل

مولانا فضل الرحمٰن نے اتوار کے روز کوئٹہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ فوجی جوان اپنی ملازمت کے دوران تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل کرتے ہیں، اس لیے اگر کوئی فوجی دورانِ ملازمت جان کی قربانی دیتا ہے تو وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے شہید ہوتا ہے، جبکہ عام شہری یا دینی کارکن کسی مالی معاوضے یا تنخواہ کے بغیر اپنی جان قربان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کی قربانی کا معیار اس کے مالی فائدے سے نہیں بلکہ اس کے مقصد سے ہونا چاہیے۔مولانا فضل الرحمٰن کے اس متنازعہ بیان پر حکومتی وزراء اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا شہداء کی عظیم قربانیوں کی توہین ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خطاب نے ملک کے سیاسی میدان میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ملکی اداروں اور خاص طور پر فوج کے حوالے سے سخت اور متنازع گفتگو کی۔

بیان پر سیاسی حلقوں کا کیا ردعمل آیا؟

جس پر ملک کی سیاسی قیادت نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان کے خطاب پر وفاقی وزرا اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے شدید ردعمل اور مذمت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاستدان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ اور شہدا کے خاندانوں کی دل آزاری ہے، کوئی بھی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا بلکہ اس کے پیچھے نظریہ، عقیدہ اور وطن سے محبت ہوتی ہے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی مولانا فضل الرحمان کے خطاب کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقی تقاضوں کے منافی قرار دیا۔

امریکہ جانے کا سنہری موقع، اولپمکس 2028 کیلئے درخواستیں طلب

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مولانا صاحب، آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے لیکن آپ کے بیان سے یہ تاثر ملا کہ آپ نے جذبات میں بہہ کر شہدا کی قربانیوں کی قدر کو کم کر کے پیش کیا، جس سے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم مساجد، مدارس اور جلسوں میں امن سے بیٹھے ہیں تو اس کی وجہ سرحد پر کھڑا سپاہی ہے۔وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سے پوری قوم اور شہدا کے لواحقین سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب نے شہادت جیسے عظیم رتبے کو تنخواہ سے جوڑ دیا ہے، حالانکہ شہادت تنخواہ سے نہیں بلکہ حب الوطنی اور ایمان سے ملتی ہے۔

بلیو پاسپورٹ کیا ہے؟ کن افراد کو جاری کیا جاتا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟

 

اسی طرح وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے رنج کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا کسی شہید کی جان کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے؟انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سب کو مل کر ایک بیانیہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر مملکت برائے ریلوے حنیف عباسی نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پوری قوم کا دل دکھایا ہے جبکہ پاک فوج گزشتہ پینتیس سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے۔اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بھی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے اور اس کا ایک ایک جوان دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جان پیش کرتا ہے۔

موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے تجربہ بیان کر دیا

 

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی نام لیے بغیر ردعمل دیا اور کہا کہ شہادت مومن کا مقصد ہے اور یہ راز ہم دنیا داروں اور تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے بھی پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کے لیے قربانی دیتی ہے، مولانا صاحب کے بیان سے شہدا کے ورثا کی سخت دل آزاری ہوئی ہے۔تاہم دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مختلف مقف اپنایا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سنجیدہ اور زیرک شخصیت ہیں، ان کی طرف سے خیبر پختونخواہ کی صورتحال پر دیے گئے بیان کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہئے۔

دنیا کے امیر ترین ممالک کون سے ہیں؟ فہرست جاری

 

بیان سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیوں کو تنخواہوں یا مراعات سے نہیں تولا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شہداء پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کے بارے میں گفتگو انتہائی ذمہ داری سے ہونی چاہیے۔استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما فیاض الحسن چوہان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کو افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے شہداء کے خاندانوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور پوری قوم کو دکھ پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فوجی جوان وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور ان کی قربانیوں پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

 

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری حافظ میاں محمد نعمان نے بھی بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں اور شہداء سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی مفاد اور ریاستی اداروں کے احترام کو مقدم رکھا جائے۔دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنے قائد کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پارٹی رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ مولانا نے کسی شہید یا فوجی جوان کی قربانی کی توہین نہیں کی بلکہ ان کا مؤقف ریاستی پالیسیوں اور اداروں کے کردار سے متعلق تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا آخر کس بات پر معافی مانگیں، کیونکہ ان کے الفاظ کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔

 

سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث کے دوران پنجاب اسمبلی میں بھی مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کے خلاف مذمتی قرارداد جمع کرائی گئی۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دے سکتے ہیں، اس لیے قومی اداروں کے وقار کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے۔سوشل میڈیا پر بھی اس بیان پر شدید بحث جاری رہی۔ ایک جانب بعض صارفین نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیان کو تنقیدی سیاسی اظہار قرار دیا، جبکہ دوسری جانب بڑی تعداد میں صارفین نے شہداء اور افواج پاکستان کے بارے میں ایسے الفاظ کے استعمال کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں قومی سلامتی، افواج پاکستان اور شہداء جیسے موضوعات ہمیشہ حساس رہے ہیں، اسی لیے ان سے متعلق کسی بھی سیاسی بیان پر فوری اور شدید ردعمل سامنے آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو ایسے معاملات پر اظہار خیال کرتے وقت محتاط زبان استعمال کرنی چاہیے تاکہ کسی بھی طبقے کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ادھر مختلف سیاسی شخصیات کی جانب سے قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے احترام پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ جے یو آئی (ف) اپنے قائد کے مؤقف پر قائم ہے۔ اس معاملے پر سیاسی بحث آئندہ دنوں بھی جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں اس موضوع پر اپنے اپنے مؤقف کو عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔

 

 

اسلام کے دو انگریز مجاہد، جنہوں نے برطانیہ میں اسلام کی شمع روشن کی

Next Post
افغانیوں کی بے دخلی جاری، مزید 3841 کو واپس بھیج دیا گیا
Previous Post
امریکہ جانے کا سنہری موقع، اولپمکس 2028 کیلئے درخواستیں طلب