Skip to main contentSkip to footer

مکہ مکرمہ میں میاں بیوی کو پھانسی؟ حقیقت سامنے آگئی

مکہ مکرمہ میں میاں بیوی کو پھانسی؟ حقیقت سامنے آگئی
تحریر: کامران کامی

سوشل میڈیا پر کوئی خبر سامنے آئے تو چند لمحوں میں اسے مذہب، شریعت، ظلم اور ناانصافی کے مباحث میں بدل دیا جاتا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کئی مرتبہ مکمل معلومات حاصل کیے بغیر ہی تبصرے شروع ہو جاتے ہیں، الزامات لگائے جاتے ہیں اور ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں جن کی تصدیق کسی مستند ذریعے سے نہیں کی گئی ہوتی۔ مکہ مکرمہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیے جانے کا معاملہ بھی اسی حوالے سے توجہ طلب ہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کہیں انہیں میاں بیوی بتایا گیا، کہیں ان کی آٹھ سالہ بیٹی کا ذکر سامنے آیا، جبکہ بعض پوسٹس میں انہیں حجاج قرار دیا گیا۔ تاہم دستیاب سرکاری بیانات اور معتبر میڈیا رپورٹس ان تمام دعووں کی تصدیق نہیں کرتیں۔

 

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق، بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کو 14 اکتوبر 2026 کو مکہ ریجن میں سزائے موت دی گئی۔ سعودی حکام کے مطابق دونوں کو ایک مسجد میں غیر اخلاقی فعل کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کیا گیا، تحقیقات کے بعد مقدمہ عدالت میں پیش ہوا اور عدالت نے جرم ثابت ہونے پر تعزیری سزا سنائی۔ متعلقہ عدالتی فیصلے کی توثیق اور شاہی حکم کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا گیا، یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: سعودی وزارتِ داخلہ کے بیان میں جرم کی نوعیت کے لیے غیر اخلاقی فعل کی اصطلاح استعمال کی گئی جبکہ بعض میڈیا رپورٹس اور بنگلہ دیشی حکام سے منسوب اطلاعات میں اسے زنا یا مسجد کے اندر جنسی تعلق قائم کرنے کے الزام کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے ان تفصیلات کو بیان کرتے وقت متعلقہ ماخذ کی وضاحت ضروری ہے۔

کیا دونوں میاں بیوی تھے؟

یہ اس واقعے سے متعلق سب سے زیادہ زیرِ بحث سوالات میں سے ایک ہے۔ بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں دونوں کو میاں بیوی قرار دیا گیا لیکن دستیاب معتبر رپورٹس سے ان کے ازدواجی تعلق کی تصدیق نہیں ہوتی۔ بعض میڈیا اداروں نے بھی واضح کیا کہ دونوں کے آپس میں شادی شدہ ہونے کی حیثیت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی طرح ان کی مبینہ آٹھ سالہ بیٹی کے بارے میں بھی ایسی مستند معلومات دستیاب نہیں جن کی بنیاد پر اس دعوے کو حقیقت قرار دیا جا سکے۔ کسی شخص کے خاندانی حالات کے بارے میں غیر مصدقہ بات کو آگے پھیلانا اس کے اہلِ خانہ کے لیے بھی تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے سعودی حکام سے تفصیلات طلب کی ہیں ، بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شاما عباید اسلام نے 17 اکتوبر 2026 کو بتایا کہ ان کی حکومت کو واقعے اور سزاؤں کے بارے میں مکمل سرکاری تفصیلات موصول نہیں ہوئیں۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق سعودی عرب میں موجود ان کے سفارتی مشن کو بھی سزاؤں پر عمل درآمد سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

بعد ازاں بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ نے سعودی حکام سے واقعے، قانونی کارروائی اور سزاؤں سے متعلق وضاحت طلب کی ہے ، یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کہ اگرچہ سعودی وزارتِ داخلہ نے سزا پر عمل درآمد کی تصدیق کی ہے، تاہم واقعے کے تمام حالات، گرفتاری کی مکمل تفصیلات اور مقدمے کی کارروائی سے متعلق معلومات ابھی تک عوامی سطح پر مکمل طور پر واضح نہیں ہوئیں۔ اس واقعے کے حوالے سے اصل مسئلہ صرف خبر کی تصدیق نہیں بلکہ اس کی تشریح بھی ہے۔ کسی سرکاری بیان میں غیر اخلاقی فعل کا ذکر ہو تو اسے بغیر مزید ثبوت کے کسی خاص نوعیت کے جرم کی قطعی تفصیل قرار دینا درست نہیں۔ اسی طرح کسی سزا کے اعلان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر اضافی بات بھی درست ہے۔ قانونی اصطلاحات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ سعودی حکام کے بیان میں تعزیری سزا کا ذکر ہے۔ تعزیر اسلامی قانونی روایت میں ایسی سزا کو کہا جاتا ہے جس کی نوعیت اور مقدار مقررہ حدود کے دائرے سے باہر عدالتی و قانونی اصولوں کے تحت طے کی جاتی ہے۔ تاہم اس اصطلاح کی بنیاد پر کسی مخصوص مقدمے کی تمام قانونی تفصیلات یا سزا کے جواز کے بارے میں مکمل نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ مسجد میں ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکت کی سزا لازماً موت ہے۔ کسی مخصوص مقدمے میں سزا کا تعین متعلقہ قانون، الزامات، شواہد اور عدالتی فیصلے سے متعلق ہوتا ہے۔

مذہبی معاملات میں جذبات سے پہلے تحقیق ضروری ہے

مکہ مکرمہ اور مسجد کا احترام مسلمانوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح کسی شخص پر جرم ثابت ہونے، عدالتی کارروائی اور سزا سے متعلق گفتگو میں انصاف، درست معلومات اور ذمہ داری بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی واقعہ واقعی پیش آیا ہو تو اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ واقعے کی تفصیلات میں اپنی طرف سے اضافہ نہ کیا جائے۔ نہ کسی کو بلا تحقیق مظلوم قرار دینا چاہیے اور نہ ہی غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر کسی کے خلاف فیصلہ صادر کرنا چاہیے۔
اس معاملے میں مصدقہ بات یہ ہے کہ سعودی حکام نے دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کا اعلان کیا، جبکہ بنگلہ دیشی حکومت نے مقدمے اور سزا سے متعلق مزید تفصیلات طلب کیں۔ اس کے برعکس ان کے میاں بیوی ہونے، ان کی بیٹی کے وجود اور سوشل میڈیا پر بیان کیے جانے والے دیگر حالات کی تصدیق دستیاب معلومات سے نہیں ہوتی۔
اصل سبق یہی ہے کہ خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کی جائے۔ مذہبی جذبات ہوں، انسانی حقوق کا معاملہ ہو یا کسی عدالتی فیصلے پر اختلاف، رائے قائم کرنے سے پہلے حقائق کو سمجھنا ضروری ہے۔ نامکمل معلومات پر مبنی تبصرے نہ صرف غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں بلکہ معاشرے میں غیر ضروری نفرت اور تقسیم کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا صحت کارڈ پلس پروگرام میں مالی بے ضابطگیاں، سابق سربراہ طلب

بچوں کے ٹفن میں پراٹھے دیکھ کر پولیس اہلکار آبدیدہ ہوگیا

پچھلی پوسٹ
سول سیکرٹریٹ میں ڈے کیئر سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ، داخلہ فیس اور قواعد مقرر