خیبرپختونخوا حکومت نے سول سیکرٹریٹ میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ڈے کیئر سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے محکمہ انتظامیہ نے قواعد و ضوابط نافذ کرتے ہوئے داخلے کی شرائط، فیس، بچوں کی حفاظت اور انتظامی امور سے متعلق تفصیلات جاری کردی ہیں۔ محکمہ انتظامیہ خیبرپختونخوا کے نوٹیفکیشن کے مطابق سول سیکرٹریٹ کے ڈے کیئر سینٹر میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کے 6 ماہ سے 13 سال تک کی عمر کے بچوں کو داخلہ دیا جا سکے گا۔ داخلوں میں سنگل والدین اور خواتین افسران و اہلکاروں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ داخلے پہلے آئیے، پہلے پائیے کی بنیاد پر ہوں گے۔ تاہم ہر بچے کا داخلہ متعلقہ کمیٹی کی جانچ پڑتال اور منظوری سے مشروط ہوگا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی پشاور ہائیکورٹ میں سماعت
نوٹیفکیشن کے مطابق داخلے کے لیے بچے کے والدین یا سرپرست کا شناختی کارڈ، سرکاری ملازمت کی تصدیق اور بچے کا میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ حکومت نے ڈے کیئر سینٹر کے لیے داخلہ فیس اور ماہانہ اخراجات بھی مقرر کردیے ہیں۔ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے بچوں کی داخلہ فیس 5 ہزار روپے، جبکہ گریڈ 16 اور اس سے کم کے سرکاری ملازمین کے بچوں کی داخلہ فیس ایک ہزار روپے ہوگی۔ ہر بچے کی ماہانہ فیس بھی ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جو ہر ماہ کے پہلے سات ورکنگ دنوں میں جمع کرانا ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈے کیئر سینٹر کی فیس وصول کرنے اور مالی معاملات چلانے کے لیے محکمہ انتظامیہ میں الگ فنڈ قائم کیا جائے گا۔ اس فنڈ سے سینٹر کی مرمت، دیکھ بھال، کھلونوں اور تعلیمی سامان کی خریداری سمیت دیگر ضروری اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ فنڈز کے استعمال اور انتظامی معاملات کی نگرانی مینجمنٹ کمیٹی کرے گی، جسے انتظامی مسائل حل کرنے اور متعلقہ امور کی منظوری دینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
سائبر کرائم شکایات میں ایک سال کے دوران 43ہزار سے زائد کا اضافہ
بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ ڈے کیئر سینٹر سے بچوں کو صرف تصدیق شدہ شناخت رکھنے والے مجاز افراد کے حوالے کیا جائے گا۔ والدین کو بچوں کو لینے کے لیے متبادل افراد کی تفصیلات پہلے سے تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔ سینٹر میں غیر ضروری آمدورفت اور طویل قیام پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ طبی تحفظ سے متعلق قواعد کے تحت بخار، متعدی بیماری یا شدید علالت میں مبتلا بچوں کو ڈے کیئر سینٹر میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر سینٹر میں موجود کسی بچے کی طبیعت خراب ہو جائے تو اسے فوری طور پر دوسرے بچوں سے الگ رکھنے اور والدین کو اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ والدین کی تحریری اجازت کے بغیر بچوں کو ادویات دینے پر بھی پابندی ہوگی۔ محکمہ انتظامیہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈے کیئر سینٹر میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے چار چائلڈ کیئر اسسٹنٹس تعینات کیے گئے ہیں۔ بچوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے، جسمانی سزا دینے یا کسی بھی قسم کے تشدد پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ بچوں کے لیے محفوظ انڈور کھیلوں کا انتظام بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ قواعد کے مطابق اگر کوئی بچہ مسلسل تین روز تک بلااطلاع غیر حاضر رہتا ہے تو اس کے داخلے پر نظرثانی کی جا سکے گی۔ ڈے کیئر سینٹر کے قواعد میں کسی استثنا کے لیے مینجمنٹ کمیٹی کی پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ قواعد میں ڈے کیئر سینٹر کے انتظامی امور، مالی وسائل کے استعمال، بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات کی نگرانی کے لیے مینجمنٹ کمیٹی کو مرکزی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے منظم اور محفوظ نگہداشت کا نظام فراہم کرنا ہے۔
پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے بھارت اور کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب
بلدیاتی اداروں کیلئے 72 کروڑ 92 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ





