Skip to main contentSkip to footer

گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی پشاور ہائیکورٹ میں سماعت

گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی پشاور ہائیکورٹ میں سماعت

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جہاں درخواست گزاروں کے وکلا نے حکومتی اقدامات کو آئینی و قانونی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی بحالی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی بازیابی سمیت دیگر ریلیف کی استدعا کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، جبکہ دوسری جانب ایک درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ بعض اضلاع میں خراب سکیورٹی صورت حال کے باعث ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز موجود تھا۔

 

پشاور ہائیکورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان، اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی اور دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواستوں پر دلائل دیے گئے۔ درخواست گزاروں میں بیرسٹر گوہر علی خان، محمود خان اچکزئی، اختر مینگل، محسن داوڑ، شاندانہ گلزار، سلمان خان ایڈووکیٹ اور قیصر شاہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ درخواست گزاروں نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے آئینی و قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کی استدعا کی ہے۔

ایمرجنسی کے نفاذ کے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، وکلا

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سمیر کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا، جو ان کے مطابق غیر قانونی ہے۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232(1) کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی منظوری ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ آئینی شق میں لفظ ’’shall‘‘ استعمال کیا گیا ہے، جو اس تقاضے کی لازمی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بیرسٹر سمیر کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ جب یہ اقدامات کیے گئے تو صوبائی اسمبلی، وزیراعلیٰ، اسپیکر اور کابینہ موجود تھے اور صوبے کے انتظامی معاملات معمول کے مطابق چل رہے تھے۔ ان کے مطابق ایسے غیر معمولی اقدامات کے لیے ضروری آئینی اور قانونی شرائط کو نظرانداز کیا گیا۔

کوہاٹ، ہنگو اور کرک میں سکولوں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ شروع

وکیل نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے متعلقہ حالات اور مادی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسے حالات نہیں تھے جن پر صوبائی حکومت قابو پانے میں ناکام رہی ہو۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کی موجودگی اور ان کے کردار کے حوالے سے بھی صورت حال واضح نہیں، جس پر جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کیا درخواست میں وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو پیش کرنے یا ان کی بازیابی کی استدعا کی گئی ہے؟ اس پر بیرسٹر سمیر کھوسہ نے جواب دیا کہ درخواست میں اس حوالے سے استدعا موجود ہے۔ وکیل نے پیر صابر شاہ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق ایمرجنسی نافذ ہونے کی صورت میں بھی وزیراعلیٰ اور کابینہ کے کام کرنے کے معاملے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال میں وزیراعلیٰ، کابینہ اور متعلقہ حکام کو غیر فعال کردیا گیا ہے۔ بیرسٹر سمیر کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دے کر صوبائی اسمبلی بحال کی جائے اور وزیراعلیٰ و اسپیکر کو بازیاب کرایا جائے۔

درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ آئینی تقاضے پورے کیے بغیر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی خودمختاری اور جمہوری نظام سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج اس وقت زیر بحث آتا ہے جب صوبائی حکومت اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو، تاہم ان کے بقول خیبرپختونخوا میں حکومتی معاملات معمول کے مطابق چل رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کی خلاف ورزیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی کابینہ کی موجودگی کے باوجود صوبائی حکومت کے اختیارات اور کردار کو محدود کیا گیا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے استدعا کی کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور صوبائی اسمبلی کو بحال کرنے کے لیے احکامات جاری کیے جائیں۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کے خلاف مبینہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے بھی ریلیف مانگا۔

جمیعت اہلحدیث خیبر پختونخوا نے گورنر راج کی حمایت کا اعلان کر دیا

سماعت کے دوران ایک درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی درخواست میں ایمرجنسی کے نفاذ کو نہیں بلکہ گورنر راج کو چیلنج کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں سکیورٹی صورت حال خراب ہے اور وہاں دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے باعث حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ وکیل کے مطابق ان اضلاع میں سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور اہلکار اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، اس لیے ان علاقوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کو درست قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور، نوشہرہ اور مردان سمیت صوبے کے بعض دیگر اضلاع میں صورت حال نسبتاً بہتر ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق گورنر راج کے نفاذ کا معاملہ الگ ہے اور اس پر عدالتوں کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں غور کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ ایمرجنسی کے معاملے پر بات ہو چکی ہے، اس لیے درخواست گزار کو اپنے اصل اعتراض، یعنی گورنر راج کے نفاذ، پر دلائل دینے چاہییں۔

 

معظم بٹ ایڈووکیٹ نے بھی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ غیر قانونی ہے، کیونکہ آئین کے تحت مقرر کردہ ضروری تقاضے پورے نہیں کیے گئے ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد اور دیگر آئینی شرائط کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر دہشت گردی اور امن و امان کی صورت حال کو بنیاد بنایا گیا ہے تو اس سلسلے میں اپیکس کمیٹی کا فورم بھی موجود ہے، جس میں صوبائی و وفاقی حکومتوں کے نمائندے، گورنر اور سکیورٹی اداروں کے افسران شریک ہوتے ہیں۔ معظم بٹ ایڈووکیٹ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبے کے انتظامی معاملات کو آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

خیبر پختو نخوا میں غیر ائینی گورنر راج لگا کر جمہوریت کو بلڈوز کیا گیا ،محمود اچکزئی

پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ دہشت گردی کو ناسور قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی، جبکہ ان کی جماعت کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان کے مطابق پی ٹی آئی کے 12 ارکان قومی اسمبلی اور 14 ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور بعض ترقیاتی منصوبوں سے متعلق لگائے گئے بورڈز بھی ہٹائے یا توڑے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈیڈک چیئرمین کے دفتر کو مسمار کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی اور عوام میں نفرتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پاکستان کی سلامتی اور امن کی خواہاں ہے اور چاہتی ہے کہ ملک میں سیاسی اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو سیاسی تقسیم میں اضافے کا سبب بنیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 11 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران کی تبدیلیوں کے ساتھ ایڈووکیٹ جنرل آفس کے افسران کو بھی تبدیل کیا گیا۔

منتخب حکومت پر گورنر راج نافذ کرنا غیر آئینی ہے،شاندانہ گلزار

پی ٹی آئی چیئرمین نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے بقول مذاکرات کی باتیں زیادہ تر بیانات اور کیمروں تک محدود رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن قائم ہو اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق 2 اکتوبر تک دہشت گردی کے معاملے پر حکومت نے ان کی جماعت کے ساتھ بامعنی بات چیت نہیں کی اور نہ ہی یہ معاملہ وزیراعلیٰ کے ساتھ اٹھایا گیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اگر مذاکرات کرنا ہیں تو سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے اور سیاسی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے پشاور ہائیکورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔ انہوں نے ملک میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان جاری کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ملک کے مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کو نظرانداز کیا گیا ہے اور سیاسی جماعتوں کو احتجاج کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مخصوص نشستوں کی تقسیم اور سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشان سے متعلق معاملات پر بھی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ملک کے مفاد کو مقدم رکھا جانا چاہیے اور سیاسی قوتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی رہنماؤں نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 

پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر بھی الگ سماعت ہوئی۔ اس درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس پر جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ اس وقت کہاں ہیں؟ وکیل نے جواب دیا کہ اطلاعات کے مطابق انہیں دو مقامات میں سے کسی ایک پر رکھا گیا ہے، جن میں شاہی مہمان خانہ بھی شامل ہے۔ اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست میں چیف سیکرٹری کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے حکومت، پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے عبوری ریلیف دینے کی استدعا بھی کی۔ سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کے خلاف مبینہ کارروائیوں کو روکا جانا چاہیے۔ جسٹس اعجاز انور نے درخواست گزاروں کے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا کہا۔ عبوری ریلیف سے متعلق درخواست پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کو دیکھ کر حکم جاری کیا جائے گا۔ درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، جبکہ ان کے مخالف مؤقف میں بعض اضلاع کی خراب سکیورٹی صورت حال کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب اس معاملے میں متعلقہ حکومتی فریقین کے جوابات اور عدالت کی آئندہ کارروائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

 

 

6 ماہ تک اضافی لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری، مرمت اور ترقیاتی کام کئے جائیں گے

اگلی پوسٹ
بلدیاتی اداروں کیلئے 72 کروڑ 92 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ
پچھلی پوسٹ
سائبر کرائم شکایات میں ایک سال کے دوران 43ہزار سے زائد کا اضافہ