Skip to main contentSkip to footer

بچوں کے ٹفن میں پراٹھے دیکھ کر پولیس اہلکار آبدیدہ ہوگیا

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں الخیر سکول کی چھت گرنے کے بعد عمارت کا منظر

پشاور( ہفتہ 17 اکتوبر) شہر پشاور کے گنجان آباد علاقے دیر کالونی میں الخیر سکول کی چھت گرنے سے کمسن بچوں اور ایک ٹیچر سمیت 33 افراد کی شہادت کے المناک واقعے کے بعد پولیس نے گرفتار سکول مالک کے خلاف مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ گرفتار ملزم کی شہریت، عمارت کی تعمیر میں مبینہ ناقص مٹیریل کے استعمال اور حفاظتی انتظامات سے متعلق اہم سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ متعلقہ عمارت کو سیل کر دیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں 33 معصوم بچے اور دو ٹیچرز جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے، سانحے کے بعد پشاور پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے حرکت میں آگئے اور کارروائی کرتے ہوئے سکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا تاہم ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں عمارت کی چھت پر مبینہ طور پر ناقص مٹیریل استعمال کیے جانے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ الزام ہے کہ چھت پر سرخ مٹی اور دیگر غیر معیاری مٹیریل استعمال کرکے تعمیراتی کام میں خانہ پوری کی گئی۔

گرفتار مالک کی شہریت اور ناقص مٹیریل کی تحقیقات شروع

 

دوسری جانب گرفتار سکول مالک کی شہریت بھی پولیس کے لیے تحقیقات کا اہم پہلو بن گئی ہے۔ پولیس نے اس کا شناختی کارڈ اور پشاور سے جاری کردہ ڈرائیونگ لائسنس تحویل میں لے کر ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس شخص کی پاکستانی یا افغان شہریت کی تصدیق کے لیے متعلقہ ریکارڈ اور فیملی ٹری کی جانچ کی جا رہی ہے۔ علاقے کے بعض افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ گرفتار شخص نے مبینہ طور پر بعض افراد کی ملی بھگت سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق وہ الخیر ٹرسٹ کے نام سے ادارہ چلانے اور غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ یہ الزامات بھی تحقیقات طلب ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔ ذرائع اور مقامی افراد کے دعوؤں کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ٹرسٹ کے نام پر پشاور کے کاروباری افراد سے رقوم حاصل کیں اور علاقے میں ایک اور مکان بھی تعمیر کیا۔ اور اس بارے میں بھی پولیس نے مختلف پہلو پر تفتیش شروع کر دی سانحے کے بعد پشاور پولیس کے ایک اہلکار کے آنسوؤں بھرے تاثرات بھی سامنے آئے۔ اہلکار نے بتایا کہ جب وہ بچوں کی لاشیں اٹھا رہا تھا تو اسے ان کے ٹفن میں پراٹھے پڑے ہوئے نظر آئے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور آبدیدہ ہوگیا۔

سکول کی عمارت انتہائی مخدوش تھی، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف

 

یکہ توت بڑی تباہی سے بچ گیا، 11 کلو وزنی بم ناکارہ

اس کے مطابق معصوم بچوں کے ٹفن دیکھ کر اس کا دل خون کے آنسو رونے لگا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ مالک کو کئی بار چھت کی مخدوش حالت کے حوالے سے سٹاف نے آگاہ کیا۔ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ زیادہ افراد کے چلنے سے چھت لرزتی بھی محسوس ہوتی تھی لیکن مالک نے کان نہ دھرا اور زیادہ سے زیادہ فیسیں بٹورنے کے چکر میں دوسری منزل بھی آباد کی جس سے پہلے سے خستہ حال چھت زمیں بوس ہوئی اور کئی معصوم بچوں کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا۔ سکول کی عمارت کی تعمیر اور تعلیمی ادارے کے قیام کی اجازت کس نے دی؟ عمارت کے حفاظتی معیار کی جانچ کس ادارے کی ذمہ داری تھی؟ مبینہ ناقص تعمیرات کا ذمہ دار کون ہے؟ اور گرفتار مالک کی شہریت سے متعلق حقیقت کیا ہے؟ دیر کالونی کا یہ المناک سانحہ متعلقہ اداروں کی نگرانی، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار اور بچوں کی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو محض تعزیت نہیں بلکہ شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی اور انصاف کی فراہمی درکار ہے۔

سانحہ دیر کالونی کی ایف آئی آر درج، ابتدائی رپورٹ کمشنر کو ارسال

نجی سکولوں کے لیے نئی قانون سازی کا حکم، 15 دن میں رپورٹ طلب

اگلی پوسٹ
اکاخیل مواز کلے باڑہ کے سکول میں بچوں کی زندگیاں خطرے میں
پچھلی پوسٹ
محفوظ مکانات کی تعمیر میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اقوام متحدہ کا زور