Skip to main contentSkip to footer

سرحد چیمبر کا کاروباری و تجارتی سرگرمیوں کے اوقات کار میں نرمی کا مطالبہ

Peshawar tax reforms chamber meeting

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک عمران اسحاق نے حکو مت سے توا نا ئی بحر ان پر قا بو پانے اور کفا یت شعا ری پا لیسی کے تحت کا رو بار ی ا وقات کا ر میں کمی لا نے کے اقداما ت اپنے ررعمل اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ مو جو دہ معا شی حا لا ت کی وجہ سے کا روبار و صنعتی تر قی اور تجا رت پہلے ہی جمود کا شکا ر ہے اور کارو بار ی طبقہ شد ید بحر انی کیفیت سے دوچار ہے ایسی صو رتحا ل میں کاروبار کے اوقات کار میں کم کر نے بزنس کمیو نٹی کے ما لی مشکلات کو مزید اضا فہ کر نے کے متر ادف ہے اور حکو مت کو اپنے فیصلے پر نظر ثا نی کر کے اوقات کار میں نرمی لا نے کی اشد ضر ور ت ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور کار وبار ی طبقہ ملکی معیشت کے ا ستحکا م و تر قی میں اپنے کر دا ر ادا کر تے رہیں۔

مہنگائی کا سلسلہ جاری،23اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ

گذشتہ رو ز ایک بیا ن میں سرحد چیمبر کے صدر ملک عمر ان ا سحق میں نے وفاقی حکومت کی جانب سے 17 ستمبر 2026ء کو جاری کردہ کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت سے متعلق نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اقدا م کے تحت بازاروں اور تجارتی مراکز کی بندش کا وقت رات 9 بجے، شادی ہالوں اور مارکیز کا رات 10 بجے جبکہ ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز کا رات 11 بجے مقرر رکھا گیا ہے۔صدر ملک عمران اسحاق نے بزنس کمیو نٹی توانائی کی بچت کے قومی اقدامات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی، تجارتی اور خدمات کے شعبے پہلے ہی طویل سرحدی بندشوں، حالیہ سڑکوں کی بندش اور مواصلاتی نظام میں تعطل کے باعث شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان حالات نے کاروباری سرگرمیوں، اشیاء کی ترسیل اور تجارتی حجم کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے مقامی تاجر برادری پر مالی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سر حد چیمبر کے صدر کا کہنا تھا شادیوں کے سیزن کی آمد کیساتھ بازاروں، تھوک و پرچون کی تجارت، شادی ہالوں اور ان سے منسلک دیگر کاروباری شعبوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ایسے موقع پر کاروباری اوقات میں سخت پابندیاں نہ صرف تجارتی سرگرمیوں کو مزید محدود کریں گی بلکہ پہلے سے مشکلات کا شکار کاروباری طبقے کی معاشی بحالی کی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

پنجاب سے یومیہ 80 ہزار آٹے کے تھیلوں کی سپلائی شروع، قیمتیں کم ہوگئیں

صدر ملک عمر ا ن اسحق نے اس با ت پر زور دیتے ہو ئے کہا توانائی کی بچت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مناسب توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے اور کفایت شعاری کے اقدامات پر عمل درآمد کے دوران تاجر برادری کی حقیقی کاروباری ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔سر حد چیمبر کے صدر نے حکو مت، کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکا م سے سرحد چیمبر اور متعلقہ کاروباری حلقوں کی مشاورت سے بازاروں، تجارتی مراکز اور شادی ہالوں کے اوقات کار پر نظرثانی کر کے نر می لا نے کاپْر زور مطا لبہ کیا تاکہ قومی سطح پر توانائی کی بچت کے مقاصد کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل اور کاروباری طبقے کے معاشی مفادات بھی محفوظ رہ سکیں۔ملک عمران اسحاق نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرحد چیمبر قومی معاشی استحکام اور توانائی کی بچت کیلئے حکومتی اقدامات کی حمایت کے ساتھ ساتھ پشاور کی تاجر برادری کے جائز حقوق اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔و اضح ر ہے کہ سر حد چیمبرا ٓف کا مرس اینڈانڈسٹری کے صدر ملک عمر ان ا سحق نے کا رو بار ی اوقات کا ر میں نر می لا نے کے حوا لے سے کمشنر پشاور ڈویژن کو باضا بطہ طو ر پر مر اسلہ بھی بھیج دیا ہے۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا پورٹ فولیو سب سے بڑا مالی خطرہ قرار

 

افغان راہداری کی بندش سے پاکستان کو 85کروڑ ڈالر کا نقصان

اگلی پوسٹ
جمیعت اہلحدیث خیبر پختونخوا نے گورنر راج کی حمایت کا اعلان کر دیا
پچھلی پوسٹ
خیبر پختو نخوا میں غیر ائینی گورنر راج لگا کر جمہوریت کو بلڈوز کیا گیا ،محمود اچکزئی