خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے، گورنر راج یا ایمرجنسی پلس کے آپشن پر غور کے لیے آج ہفتہ 10 اکتوبر کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اہم اجلاس متوقع ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری اور اعلیٰ عسکری حکام کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال، قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس اور وفاقی حکومت کے ممکنہ آئینی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور اہم اختیارات وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار میں لانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکلز 232 سے 234 تک کا جائزہ لینے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، تاحال ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع وفاق کے دائرۂ اختیار میں لانے کی تجویز
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ اور بعض اختیارات صوبائی حکومت سے وفاق کو منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان اضلاع میں سابق فاٹا کے سات اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ سیٹلڈ اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں سابق فاٹا سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کی تجویز کا بھی ذکر کیا گیا تھا، تاہم 11 اضلاع کی فہرست کی باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔ نئے انتظامی یونٹ کا سربراہ گریڈ 21 کا بیوروکریٹ ہوگا ، الگ سیکرٹریٹ اور گریڈ 21 کا پولیس افسر بھی تعینات کیا جائیگا ان افسران کی تعیناتی وفاقی حکومت کرے گی۔ یہ تجویز بھی زیرغور ہے کہ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران نئے تعینات ہونیوالے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کو جوابدہ ہوں گے، اس طرح ان اضلاع میں انتظامی اور پولیس امور پر صوبائی حکومت کے اختیارات محدود یا مجوزہ طریقہ کار کے تحت وفاقی انتظام کے ماتحت ہوسکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر ایمرجنسی صرف دو ماہ کیلئے نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ بعد میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد توسیع یاخاتمے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان رابطوں اور مشاورت میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الحمن نے انتہائی اہم ثالثی کا کردار ادا کیا ہے ۔ اس فیصلے کے حوالے سے صوبائی حکومت کو پیغام بھی پہنچا دیا گیا ہے
صوابی میں ایم پی اے عبد الکریم تور ڈھیر کے گھر اور حجرے پر فائرنگ، بھائی اغوا
ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تیار کردہ رپورٹس پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اجلاس میں امن و امان، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبائی حکومت کے ساتھ وفاق کے تعاون سمیت مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون اہم ہے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق حکومت ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق غور مکمل کر چکی ہے، تاہم انہوں نے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی۔ رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی اہم اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور متعلقہ حکام بھی شریک ہو سکتے ہیں، جبکہ ممکنہ آئینی اقدامات اور ان کی منظوری کے طریقہ کار پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، وزیراعلی کی شرائط رکاوٹ بنیں، طلال چوہدری
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر وزیراعظم اور صدر صوبے کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا آئینی کردار ادا کرے گا۔ اجلاس کے بعد سامنے آنے والی پیش رفت سے واضح ہوگا کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی، گورنر راج یا کسی دوسرے آئینی طریقہ کار کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔
علی امین سہیل آفریدی پر برہم، بکائو مال کہنے پر آپے سے باہر




