پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا رخ اسلام آباد کے بجائے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع کی جانب موڑنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جبکہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کرک میں کارکنوں کے لیے کیمپ قائم کیے جائیں گے جہاں انہیں کھانے پینے اور رہائش سمیت تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تحریک انصاف کا بنیادی ہدف ’’حقیقی آزادی‘‘ ہے اور پارٹی کو اسی مقصد پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے دوران کارکنوں کی ضروریات کا خیال رکھا جائے گا اور پیسوں کی کمی کو رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں دھرنوں اور احتجاج کا پرانا تجربہ ہے، اس لیے احتجاج کے دوران درپیش صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ وہ جانتے ہیں۔ ان کے بقول اگر کوئی راستہ کھولنے کی ضرورت پڑی تو وہ اسے آسانی سے کھول لیں گے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ مالی وسائل احتجاج کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی دھرنوں کے لیے ذاتی وسائل استعمال کیے گئے اور ضرورت پڑنے پر زمینیں تک فروخت کرکے احتجاجی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما علیمہ خان بھی اس بات سے آگاہ ہیں کہ انہوں نے دھرنوں میں پیسے خرچ کیے، تاہم بعد میں انہیں ان اخراجات کے ثبوت بھی فراہم کرنا پڑے۔
موبائل فون کے غلط سے استعمال سے زندگیوں کو خطرات لاحق
گنڈاپور نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایمرجنسی ہو، گورنر راج ہو یا گرفتاریاں، پارٹی کو ان تمام حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی ممکنہ تحلیل سے متعلق سوال پر علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ اسمبلی ہرگز تحلیل نہیں کی جائے گی اور یہ فیصلہ صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلی عمران خان کے مینڈیٹ پر قائم ہے اور اس لیے اسے تحلیل کرنے کا اختیار بھی عمران خان کی ہدایت سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اسمبلی تحلیل کرنے کی بات ہوئی تھی، تاہم انہوں نے دباؤ قبول نہیں کیا تھا۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’اسمبلی عمران خان کا مینڈیٹ ہے، ہمارا نہیں‘‘، اس لیے تحریک انصاف صوبائی اسمبلی کو اپنی مرضی سے تحلیل نہیں کرسکتی۔ علی امین گنڈاپور کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا حکومت اور تحریک انصاف کے اندر اسمبلی کی ممکنہ تحلیل سمیت مختلف سیاسی آپشنز پر بحث کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان ملاقات میں بھی صوبائی حکومت، لانگ مارچ اور اسمبلی سے متعلق امور زیر بحث آنے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔
پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کی معلومات پر 15 ملین ڈالر انعام کا اعلان
سابق وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کی بیوروکریسی کے کردار پر بھی بات کی اور کہا کہ ماضی میں بیوروکریسی نے تحریک انصاف اور اس کے ووٹرز کا ساتھ دیا اور پارٹی کے حق میں اسٹینڈ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اب بیوروکریسی کسی معاملے پر اسٹینڈ نہیں لے رہی تو تحریک انصاف کو بھی اپنا محاسبہ کرنا ہوگا۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ صوبے میں لوگ مبینہ طور پر اغوا ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود متعلقہ حلقوں کی جانب سے مؤثر اسٹینڈ نہیں لیا جا رہا، اس صورتحال میں پارٹی کو بھی یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں کمی اس کی اپنی صفوں میں تو نہیں۔ علی امین گنڈاپور نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ماضی کے لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تحریک انصاف وفاق میں حکومت میں تھی تو مولانا فضل الرحمان نے لانگ مارچ کیا تھا، تاہم حکومت نے ان کے کارکنوں کے لیے رکاوٹیں پیدا نہیں کی تھیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی گائوں پر دھاوا
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت مولانا فضل الرحمان کے کارکنوں پر نہ گولی چلائی گئی، نہ آنسو گیس استعمال کی گئی اور نہ ہی کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے گئے۔ گنڈاپور نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کیے جانے پر تحریک انصاف کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم مولانا فضل الرحمان کے سیاسی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’فضل الرحمان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کچھ لیے بغیر کسی کا ساتھ نہیں دیتے۔‘‘ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ تحریک انصاف کا بنیادی پلان ایک ہی ہے اور وہ ’’حقیقی آزادی‘‘ کا حصول ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کو اپنی تمام سیاسی سرگرمیوں میں اسی مقصد کو سامنے رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مینڈیٹ ہی پارٹی کے فیصلوں کی بنیاد ہے اور لانگ مارچ سے متعلق پارٹی قیادت کی جانب سے جو ہدایات دی جائیں گی، ان پر عمل کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی اس وقت ایسے مرحلے میں ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی رابطے بھی جاری ہیں۔ 2 اکتوبر کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بھی ہوا، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی چار اکتوبر کے احتجاج سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم رہے ہیں۔

