خیبر پختونخوا میں ڈینگی کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے دوران کوہاٹ میں صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مزید 237 کیس رپورٹ ہونے کے بعد رواں سال ضلع میں مصدقہ کیسز کی تعداد 1,231 تک پہنچ گئی ہے جو صوبہ کے کسی بھی دوسرے ضلع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔جمعرات کے دن ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے صوبے میں ڈینگی کے مزید 446 کنفرم کیس رپورٹ ہوئے جس کے بعد رواں سال صوبے میں مصدقہ کیسز کی مجموعی تعداد 2,175 ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کوہاٹ میں صرف گزشتہ ہفتے 237 نئے کیس سامنے آئے
خانہ کعبہ کے قریب خودکش دھماکے کی کوشش کی مبینہ اطلاعات
جبکہ قبائلی ضلع خیبر میں 84، پشاور میں 43، کرک میں 12، چارسدہ اور بنوں میں 11، 11، نوشہرہ میں 8 اور ہری پور میں 6 کیس رپورٹ ہوئے۔صوبائی اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک کوہاٹ میں سب سے زیادہ1231 ‘پشاور میں 324، خیبر اور بنوں میں 101، 101، ہری پور میں 65، چارسدہ میں 30، کرک اور نوشہرہ میں 22، 22، لکی مروت میں 19، ڈیرہ اسماعیل خان اور صوابی میں 18، 18 جبکہ باجوڑ میں 16 مصدقہ کیسز سامنے آچکے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک خیبر پختونخوا میں ڈینگی کے باعث کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تاہم کیسز میں مسلسل اضافے نے بالخصوص کوہاٹ سمیت متاثرہ اضلاع میں تشویش بڑھا دی ہے۔کوہاٹ شہر اور ملحقہ علاقوں میں ڈینگی کیسز میں تیزی سے اضافے کے باعث شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران سامنے آنے والے 237 نئے کیسز نے ضلع میں بیماری کے پھیلاؤ کی شدت کو نمایاں کردیا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق کوہاٹ صوبے میں ڈینگی کا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بن گیا ہے
موبائل فون کے غلط سے استعمال سے زندگیوں کو خطرات لاحق
جہاں مصدقہ کیسز کی تعداد 1,231 تک پہنچ چکی ہے جو صوبے کے مجموعی مصدقہ کیسز کا نصف سے زائد بنتی ہے۔صحت کے حکام کی جانب سے ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مچھر کی افزائش گاہوں کے خاتمے، صفائی ستھرائی اور احتیاطی تدابیر پر زور دیا جا رہا ہے، تاہم کوہاٹ میں کیسز میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں نے انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں کو مزید مؤثر اور وسیع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد جانے کا فیصلہ مئوخر، تحریک انصاف کا کرک جانے کا اعلان

