خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتحال کے حوالے سے وفاقی حکومت نے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے جبکہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا معاملہ بھی زیرِ غور آنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور صدرِ مملکت کے سامنے خیبر پختونخوا سے متعلق موجودہ صورتحال پر مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں اور آنے والے دنوں میں اہم فیصلہ متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک آپشن کے طور پر خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر بھی غور کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب موجودہ صوبائی حکومت کے تسلسل کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے پاس صوبائی حکومت کے تسلسل کے لیے لانگ مارچ کی تاریخ غیر مشروط طور پر واپس لینے کا آپشن موجود ہے جبکہ لانگ مارچ کی تاریخ برقرار رہنے کی صورت میں وفاق کی جانب سے آئینی آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے حوالے سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔خیبر پختونخوا سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی حکومت اور متعلقہ آئینی حکام کی مشاورت کے بعد سامنے آئے گا۔
خیبرپختونخوا کے شہری وزیراعلیٰ کی کارکردگی سے غیر مطمئن، سہیل آفریدی پر شدید تنقید
ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کے روز گورنر راج کی تیاری مکمل کرلی گئی تھی اور پشاور کے اسمبلی چوک میں کنٹینرز بھی پہنچادیئے گئے لیکن اسی وقت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پریس کانفرنس کے دوران لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی تمام کنٹینرز ہٹانے کا بھی حکم دیا جس کے بعد تمام کنٹینرز ہٹادیئے گئے تاہم گورنر راج کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبےمیں ایمرجنسی لگانے یا گورنر راج لگانے کے آپشن پر غور کیا جارہا ہے اور ائندہ چند دنوں میں حتمی فیصلہ کرلیا جائےگا تاہم خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے لانگ مارچ مئوخر کرنے کے اعلان پر یہ خطرہ ٹل سکتا ہے
خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی، صوبائی حکومت پر سوالات اٹھنے لگے
دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کرنے سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا امکان تو ٹل سکتا ہے لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی کرسی سے ہاتھ دھو سکتے ہیں کیونکہ بانی پی ٹی آٗئی عمران خان کی جانب سے پہلے ہی مارچ ملتوی کرنے پر سہیل آفریدی کو ہٹانے کا اشارہ دیدیا گیا ہے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے بھی پشاور میں ڈیرے ڈال لئے ہیں اور وہ دوبارہ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کیلئے تگ و دو میں لگ گئے ہیں تاہم وزارت اعلیٰ کے نام کا حتمی فیصلہ بانی چیئرمین عمران خان خود کریں گے یادرہے کہ وزیراعلیٰ کو ہٹاتے ہی تمام کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی اور نئے وزیراعلیٰ کو نئی کابینہ تشکیل دینی پڑے گی جس سے صوبے کے انتظامی معاملات میں خلل پڑنے کا بھی خدشہ ہے
کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، سہولت کاروں کا سراغ مل گیا

