پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست سے تنگ خیبر پختونخوا کے شہریوں نے وزیراعلی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔شہریوں نے سیاسی احتجاج اور سڑکوں کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کیعوام کو مشکلات کے بجائے امن اور معمولات زندگی کی بحالی چاہیے۔رپورٹ کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے صرف شر و فساد پھیلانے والے ہیں، امن لانے والے نہیں ہوسکتے، تحریک انصاف ایک شرپسند جماعت ہے جو صرف ملک میں شر اور فساد پھیلاتی ہے۔شہریوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ملک اور ریاستی اداروں کے خلاف زہر اگل رہی ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے، صوبے کے حالات ہمارے لیے ٹھیک کردیں، ہمیں عمران خان کی ضرورت نہیں ہے۔ رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق پیغام کی تصدیق کی ہے۔ایک انٹرویو میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے پیغام دیا تھا کہ اسلام آباد مارچ شاید سہیل آفریدی کی صلاحیت سے زیادہ ہے
حکومت کو تھکا تھکا کر مارنا ہماری حکمت عملی ہے، شوکت یوسفزئی
سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلی سے اسٹیپ ڈائون کرنا چاہیے۔رکن قومی اسمبلی نے دعوی کیا کہ سہیل آفریدی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کے پیغامات کی بشری بی بی کی فیملی اور نورین نیازی نے بھی تصدیق کی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے نورین نیازی سے سہیل آفریدی کے معاملے پر مزید گفتگو کی، جبکہ اس موقع پر بشری بی بی بھی موجود تھیں، بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی، سلمان اکرم اور دو دیگر افراد پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔شیر افضل نے مزید کہا کہ نورین نیازی نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کو ناکام بنانے کیلئے پریشر گروپ بنا رکھا ہے اور تقریبا 35 ارکان اسمبلی بغاوت پر اترے ہوئے ہیں، جس پر بانی پی ٹی آئی نے پوچھا کہ 35 ایم پی ایز کا مطالبہ کیا ہے، جس پر نورین نیازی نے بتایا کہ ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کچھ نہیں کر پا رہے۔انھوں نے دعوی کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ایم پی ایز کے موقف کو درست قرار دیا اور کہا سہیل آفریدی کی حکومت ٹھہرنے والی نہیں۔رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اگر سہیل آفریدی مارچ نہ کرسکے تو بھی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی معافی نہیں ہے۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبرپختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ کی کال محض سیاسی دکھاوا تھی۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دوران صوبے سے لانگ مارچ کی تیاریوں، جن میں ٹرانسپورٹ کی بکنگ، کھانے کے انتظامات اور دیگر ضروری اقدامات شامل ہیں، کے حوالے سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی جو عام طور پر مارچ کے لیے کی جاتی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی، صوبائی حکومت پر سوالات اٹھنے لگے
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا تاہم پی ٹی آئی رہنمائوں نے بارہا مذاکرات سے گریز کیا اور حقائق چھپائے۔اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کو اپنے جیل میں قید بانی تک رسائی سے مشروط کیا تھا اور مجوزہ لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے اپنی شرائط میں بانی سے ملاقات کا مطالبہ بھی شامل کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب حکومت نے مذاکرات کا موقع فراہم کیا تو پی ٹی آئی قیادت نے اسے مسترد کر دیا۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے پی ٹی آئی کے بانی کی صحت سے متعلق دعوئوں اور پروپیگنڈے پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے صورتحال کو مزیدکشیدہ کرنے اور عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کیے گئے۔اسلام آباد میں سکیورٹی اقدامات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوامی تحفظ کے مفاد میں پابندیاں اور دیگر احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں سفارتکار، غیر ملکی شہری اور بڑی تعداد میں مقامی افراد رہائش پذیر ہیں اس لیے سکیورٹی اور سرکاری و عوامی املاک کا تحفظ ترجیح ہے۔وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی فیصلہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے؟،افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا،آپ کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جاتی ہیں، آپ وہ واپس کرتے ہیں، نیا پولیس ایکٹ جو آیا ہے اس میں پولیس کا اختیار لینے کی کوشش کی۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ساتھ میڈیا کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکہ، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے کے حالات بدلنے کے لیے ساڑھے 12 سال کافی ہوتے ہیں، اے این پی، مسلم لیگ (ن،) جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانی دے چکی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے، یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ کے پی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں؟ کے پی میں موٹر سائیکل پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں، پی ٹی آئی خیبر پختون خوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی، یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔اس موقع پر وزیر مملکت سینیٹر طلال چوہدری نے بتایا کہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت معصوم سویلینز، خواتین، بچے اور غیر مسلح ریسکیو اہلکار شہید ہوئے، ہلاک دہشت گرد کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا، تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے تصدیق ہوئی کہ اس کی تصویر کابل کے ایک چوک کی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پراکسیز مشرقی سرحد سے فنڈ اور مغربی سرحد کی محفوظ پناہ گاہوں سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے دو طرفہ سطح، بین الاقوامی فورمز، ڈوزیئرز اور مذاکرات کے ذریعے بارہا کابل انتظامیہ کو سمجھایا لیکن افغان عبوری حکومت نے اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں روکا، معصوم شہریوں اور ریسکیو اہلکاروں پر حملے ڈالروں کے عوض کی جانے والی کھلی دہشت گردی ہے۔انہوں نے وزیراعلی خیبر پختونخوا کے دورہ ڈی آئی خان پر سوال اٹھایا کہ اتنی طویل پریس کانفرنس میں وزیراعلی نے افغانستان کا نام لے کر مذمت کیوں نہیں کی؟
پاکستان میں دراندازی کرنیوالے خوارج میں 70فیصد کا تعلق افغانستان سے ہے
صوبائی قیادت دہشت گردوں کے خلاف آخر کیوں نرم گوشہ اپنائے ہوئے ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے پی کی سیاسی قیادت 14 سال سے سکیورٹی فورسز کی پشت پر کھڑی نہیں ہوئی۔ کے پی حکومت بتائے کہ این ایف سی کے تحت ملنے والے 800 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ صوبے میں سی ٹی ڈی آج بھی کرائے کے مکانوں میں ہے اور فورسز کے پاس نہ بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، نہ جیکٹس اور نہ ہی جدید ٹریننگ، جبکہ پولیس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے پولیس سے اختیارات بھی چھیننے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کے پی قیادت سکیورٹی اجلاسوں، اے پی سی اور نیشنل کانٹر ٹیررازم میٹنگز میں شرکت نہیں کرتی، صرف این ایف سی فنڈز مانگنے اسلام آباد آتی ہے،جب صوبائی حکومت قومی سلامتی کے فورمز سے راہ فرار اختیار کرے گی اور دشمن کا نام لینے سے کترائے گی تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیسے جیتی جائے گی؟صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے 325 راستوں میں سے کوئی بند نہیں کیا گیا، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عدالتی احکامات کے تحت کنٹینرز سمیت احتیاطی انتظامات رکھے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے گا، جبکہ سامان والے کنٹینرز روکنے کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ فرانزک لیبز، سیف سٹیز اور جدید آلات کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا، مگر کے پی کے آدھے سے زائد اضلاع میں آج بھی سی ٹی ڈی موجود نہیں۔ دہشت گردی سے شدید متاثرہ پشاور میں صرف 25 کیمرے تھے اور پہلا سیف سٹی پروجیکٹ اب مکمل ہونے کے قریب ہے۔ پنجاب نے سی ٹی ڈی اور سیف سٹیز بنا کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا جبکہ کے پی حکومت نے 14 سال میں ادارے قائم نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد وفاقی وزیر اطلاعات کے ہمراہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر وفاق اور صوبوں کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

