Skip to main contentSkip to footer

دنیا کے قدیم ترین 3400سال پرانے امن معاہدے کا نیا ٹکڑا دریافت

دنیا کے قدیم ترین 3400سال پرانے امن معاہدے کا نیا ٹکڑا دریافت

ترکی میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے دنیا کے قدیم ترین معلوم امن معاہدے کے تقریبا 3 ہزار 400 سال پرانے ایک نئے ٹکڑے کو دریافت کر لیا، جس میں ایک ملک سے دوسرے ملک جانے والے پناہ گزینوں سے متعلق شقیں بھی شامل ہیں۔ مٹی کی تختی کا یہ ٹکڑا قدیم مصر کے فرعون رامسیس دوم اور حتی سلطنت کے بادشاہ ہتوسیلی سوم کے درمیان 13 ویں صدی قبل مسیح میں ہونے والے معاہدہ قادش کا حصہ ہے۔ یہ ٹکڑا حتی سلطنت کے سابق دارالحکومت ہتوشا سے ملا، جو موجودہ وسطی ترکی میں واقع ہے

گوگل میپس پر دریافت پراسرار سٹرکچر 39کروڑ برس پرانا نکلا

محققین نے تقریبا 1 سال تک اس ٹکڑے کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی معاہدے میں اصل حیثیت کی تصدیق کی ہے۔ دستیاب متن کے ایک حصے میں ان افراد سے متعلق قواعد درج ہیں جو مصر سے حتی سلطنت کی حدود میں فرار ہوئے یا حتی علاقے سے مصر چلے گئے۔ معاہدے کے تحت ایسے افراد کو واپس کیا جانا تھا، تاہم انہیں بعض سخت سزاں سے تحفظ بھی فراہم کیا گیا تھا، معاہدے میں ان کی آنکھوں، کانوں اور جسم کے دیگر حصوں کو مسخ کرنے جبکہ ان کے گھروں اور خاندانوں کو تباہ کرنے سے بھی روکا گیا تھا۔ یہ معاہدہ قدیم دنیا کی دو طاقتور سلطنتوں کے درمیان کئی برس جاری رہنے والی جنگ کے بعد طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے دیگر ٹکڑے ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل دریافت ہو چکے ہیں۔

تہران میں رات کو آسمان پر نظر آنے والی پراسرار روشنیاں

 

سعودی عرب میں ہزاروں برس قدیم نخلستان کے شواہد دریافت

Next Post
ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکہ، 11 افراد جاں بحق، 30 زخمی
Previous Post
جی 20 ممالک کا پاکستان کے قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ کے حوالے سے متعلق انتباہ