کوہاٹ: کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شہید ہوگئے ۔ پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پولیس حکام کے مطابق اب تک ایک دہشت گرد سنائپر مقابلے میں ہلاک ہوچکا ہے، جبکہ پولیس اور سی ٹی ڈی کا آپریشن تاحال جاری ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے میں 5 پولیس اہلکاروں اور 11 شہریوں سمیت مجموعی طور پر 16 افراد شہید ہوئے ہیں۔ مزید جانی نقصان کے حوالے سے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے پولیس لائنز کے احاطے کو گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے۔ ۔ ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کے بعد 30 سے زائد زخمیوں اور 7 جاں بحق افراد کو ایمبولینسز کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکا جمعہ کو کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی، تاہم دھماکے کی حتمی نوعیت اور وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے۔
پشاور احساس اپنا گھر پروگرام ،عمر کی حد 60 سال کرنیکا فیصلہ
دھماکے کے بعد مسلح دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کردی ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق جائے وقوعہ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس میں 14 ایمبولینسز، ریسکیو ویکلز، ریکوری وہیکل سمیت 45 سے زائد ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال سمیت دیگر طبی مراکز منتقل کیا جا رہا ہے۔ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ سے رپورٹ طلب کرلی۔ آئی جی پولیس نے زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے اور بزدلانہ حملے پولیس کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردوں و ان کے سہولت کاروں کا عبرتناک انجام ہوگا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
خیبرپختونخواپولیس قیادت کا نئے ایکٹ پر تحفظات کا اظہار
وزیراعلیٰ نے شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے عزم و حوصلے کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ دھماکے کے مقام پر سیکیورٹی اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
مکہ مکرمہ پر حملے، حوثی باغیوں کیخلاف بھرپور کارروائی کا اعلان

