Skip to main contentSkip to footer

افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا، اٹلانٹک کونسل کی رپورٹ

افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا، اٹلانٹک کونسل کی رپورٹ

نائن الیون کے 25 سال مکمل ہونے پر عالمی تحقیقی ادارے اٹلانٹک کونسل کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کی نوعیت 2001 کے مقابلے میں زیادہ منتشر، پیچیدہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے، جبکہ افغانستان سمیت بعض خطے اب بھی شدت پسند گروہوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں۔اٹلانٹک کونسل کی 10 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والی خصوصی رپورٹ میں دہشت گردی کے موجودہ خطرے کا مختلف پہلوں سے جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط کارروائیوں کے باوجود القاعدہ اور داعش سے وابستہ گروہوں کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ کئی گروہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے غیر مرکزی نیٹ ورکس، مقامی تنازعات اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا شروع کردیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں اور ان سے وابستہ گروہوں کے لیے انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی اور کرپٹو کرنسی جیسے ذرائع نے ایسے امکانات پیدا کیے ہیں

پاکستان میں6 لاکھ افراد کے بائیو میٹرک کا ریکارڈ لیک ہوگیا

جن کے ذریعے وہ پروپیگنڈا، بھرتی، رابطوں اور مالی وسائل کے حصول کو زیادہ مئوثر بنا سکتے ہیں۔اٹلانٹک کونسل کے ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں دہشت گرد گروہوں کو زیادہ کم لاگت اور وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرنے کی صلاحیت دے سکتی ہے۔اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا سے متعلق تجزیے میں افغانستان کی صورتحال پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں موجود اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کرتی رہی ہے اور اس کے بیشتر حملوں کا ہدف پاکستانی سیکیورٹی فورسز رہی ہیں۔رپورٹ میں داعش خراسان (IS-K) کو بھی خطے کے اہم شدت پسند گروہوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے مطابق طالبان نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان میں داعش خراسان کے حملوں میں کمی آئی، تاہم تنظیم نے دبا کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور جنوبی ایشیا سے باہر بھی خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

اگست میں دہشتگردی کی لہر میں 38فیصد اضافہ، 158 افراد شہید

رپورٹ کے مطابق طالبان اور داعش خراسان اتحادی نہیں ہیں اور طالبان نے داعش خراسان کے خلاف متعدد فوجی کارروائیاں بھی کی ہیں۔ تاہم اٹلانٹک کونسل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ داعش خراسان افغانستان میں شدید دبا کے باوجود برقرار رہنے میں کامیاب رہی ہے۔اٹلانٹک کونسل کے مطابق 2001 میں القاعدہ جیسی تنظیموں کا ایک نسبتا مرکزی ڈھانچہ موجود تھا، لیکن آج دہشت گردی کا منظرنامہ زیادہ منتشر ہے۔ مختلف گروہوں کے مقامی تنازعات، علاقائی نیٹ ورکس اور وابستہ تنظیموں کے ذریعے کام کرنے سے دہشت گردی کے خطرے کی نگرانی اور اس کا سدباب زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 9/11 کے بعد کی جنگوں میں براہ راست تشدد کے نتیجے میں 900 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے

امریکی فوجیوں کی بیویاں اور والدین بھی ٹرمپ کے امیگریشن کریک ڈائون سے غیرمحفوظ

جن میں 7 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی بھی شامل تھے۔اٹلانٹک کونسل کے ماہرین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتائج کو سادہ طور پر کامیاب یا ناکام قرار دینے کے بجائے اس کے طویل مدتی اثرات، حکمت عملی اور مستقبل کے خطرات کا جائزہ لینے پر زور دیا ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ایک ابھرتا ہوا خطرہ ہے۔ مصنوعی ذہانت پروپیگنڈا تیار کرنے، مواد کو مختلف زبانوں میں پھیلانے اور ممکنہ طور پر نئے ارکان کو متاثر کرنے کے لیے استعمال ہوسکتی ہے، جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی بھی دہشت گرد اور پراکسی گروہوں کے لیے ایک اہم ذریعہ بنتی جارہی ہے۔اٹلانٹک کونسل کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے انٹرنیٹ پہلے ہی پروپیگنڈا، بھرتی، نگرانی، چندہ جمع کرنے اور رابطوں کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔ماہرین کے نزدیک مستقبل کا چیلنج یہ ہے کہ دہشت گرد گروہ نئی ٹیکنالوجی کو کتنی تیزی سے اپناتے ہیں اور عالمی سیکیورٹی ادارے ان تبدیلیوں کو کتنی جلد سمجھ کر روکنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔اٹلانٹک کونسل کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور افغانستان کی صورتحال کا ذکر پاکستان کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے پاکستان میں کارروائیوں کا مسئلہ بدستور موجود ہے، جبکہ داعش خراسان کی سرحدوں سے باہر خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت بھی خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا مستقبل میں عالمی دہشت گردی کا وہ مرکزی مرکز نہ بھی رہے جو ماضی میں سمجھا جاتا تھا، تاہم ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے گروہوں کی موجودگی اور افغانستان کا موجودہ ماحول خطے کو دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہونے دیتا۔اٹلانٹک کونسل کے ماہرین کے مطابق 9/11 کے 25 سال بعد دہشت گردی کا چیلنج ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی شکل تبدیل ہوگئی ہے۔ اب خطرہ صرف کسی ایک بڑی تنظیم یا ایک جغرافیائی مرکز تک محدود نہیں، بلکہ چھوٹے اور غیر مرکزی گروہوں، مقامی تنازعات اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج نے عالمی سیکیورٹی اداروں کیلئے ایک مختلف نوعیت کا چیلنج پیدا کردیا ہے۔

 

امریکی ایوان نمائندگان میں ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور

Next Post
گندم کا پیداواری ہدف 3کروڑ 17لاکھ میٹرک ٹن مقرر
Previous Post
ایران معاملے پر اسرائیلی، امریکی اور عرب آرمی چیفس کی خفیہ ملاقات