Skip to main contentSkip to footer

امریکی ایوان نمائندگان میں ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور

امریکی ایوان نمائندگان میں ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد منظور

امریکی ایوان نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کیلئے ایک قرارداد منظور کر لی ہے، جس میں صدر سے ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے اور امریکی فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران جنگ کے حوالے سے یہ تیسری مرتبہ ہے کہ صدر کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے، قرارداد کی منظوری میں ڈیموکریٹس کے ساتھ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی حمایت کی۔یہ ووٹنگ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ہوئی ہے، ڈیموکریٹ ارکان نے اسے ایران جنگ کے حوالے سے اپنی اب تک کی اہم ترین کوشش قرار دیا ہے۔قرارداد کی منظوری کے باوجود اس کے عملی طور پر نافذ ہونے کیلئے سینیٹ کے مرحلے سمیت مزید آئینی اور قانونی مراحل درکار ہوں گے

پاکستان میں6 لاکھ افراد کے بائیو میٹرک کا ریکارڈ لیک ہوگیا

اس سے قبل بھی ایران جنگ کے معاملے پر کانگریس میں صدر کے اختیارات محدود کرنے کی کوششیں سامنے آچکی ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کی مالی لاگت بھی امریکی سیاست میں زیر بحث ہے۔کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق اگست 2026 تک جنگ پر امریکا کے تقریبا 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے اور اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں امریکی ایوان نمائندگان کی رولز کمیٹی نے روس کے خلاف پابندیاں مزید سخت کرنے سے متعلق بل کی منظوری دے کر اسے ایوان کو بھجوا دیا۔عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بل پر غور کے طریقہ کار کی منظوری کے لیے کمیٹی کے 7 ارکان نے حق میں جبکہ 3 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔کمیٹی نے ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی کئی ترامیم بھی مسترد کردیں جس کے بعد بل ایوان نمائندگان کو بھیج دیا گیا جو 15 ستمبر کو ہی بل پر بحث شروع کرنے اور ابتدائی طریقہ کار سے متعلق ووٹنگ کرنے پر غور کرسکتا ہے۔اگر بل یہ مرحلہ عبور کرلیتا ہے تو حتمی ووٹنگ اگلے روز ہونے کا امکان ہے۔

اگست میں دہشتگردی کی لہر میں 38فیصد اضافہ، 158 افراد شہید

بل کے بنیادی مصنف امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم تھے جن کا 11 جولائی کو انتقال ہوگیا تھا۔امریکی سینیٹ نے 7 اگست کو اس قانون سازی کی منظوری دی تھی، ایوان نمائندگان سے منظوری کی صورت میں بل دستخط کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا جائے گا۔مجوزہ قانون میں روس کے اعلی سیاسی و فوجی حکام اور سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ روس کے تجارتی شراکت داروں پر ثانوی پابندیاں لگانے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔بل کے تحت امریکا کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، قانون سازی میں ایران کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

 

کوہاٹ روڈ پر پولیس چوکی دھماکے سے تباہ، اے ایس آئی زخمی

Next Post
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے 6 بدنصیب بیٹسمین جو سنچری نہ کر سکے
Previous Post
پیٹرولیم ڈیلرز نے ریلیف سیکم پر پیٹرول دینے سے انکار کردیا