Skip to main contentSkip to footer

کینیڈا میں اچانک نمودار ہونیوالا جزیرہ غائب ہوگیا

کینیڈا میں اچانک نمودار ہونیوالا جزیرہ غائب ہوگیا

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ایک بڑے پانی کے ذخیرے میں اچانک درختوں سے ڈھکا ہوا ایک پراسرار جزیرہ نمودار ہوا، جس نے مقامی افراد اور حکام کو حیران کر دیا، یہ جزیرہ میک کینزی کے شمال میں واقع وِلِسٹن ریزروائر میں دیکھا گیا۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق مقامی افراد نے رواں ماہ کے آغاز میں جزیرے کی موجودگی کی اطلاع دی، تاہم حکام ابتدا میں اس حوالے سے محتاط تھے کیونکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تصاویر میں ردوبدل ممکن ہے

کارخانے کی توسیع کے دوران 2600سال پرانا قبرستان دریافت

بعد ازاں سیٹلائٹ تصاویر سے تصدیق ہوئی کہ یہ واقعی موجود تھا۔حکام کے مطابق 20 جولائی کی سیٹلائٹ تصویر میں جزیرہ واضح طور پر دیکھا گیا جس کا رقبہ تقریبا 1 لاکھ 5 ہزار 486 مربع فٹ لگایا گیا، تاہم 5 اگست تک یہ جزیرہ سیٹلائٹ ڈیٹا سے مکمل طور پر غائب ہو چکا تھا۔برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے ترجمان باب گیمر کے مطابق ممکن ہے جزیرہ پانی میں ڈوبنے کے بجائے پانی کے ذخیرے کے کسی نسبتا محفوظ حصے میں کنارے کی جانب واپس چلا گیا ہو، اس پراسرار تیرتے جزیرے کی مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے حکام تازہ تصاویر کا جائزہ لے رہے ہیں۔کینیڈا کے شمالی برٹش کولمبیا میں واقع وِلسٹن ذخیر آب میں درختوں اور پودوں پر مشتمل ایک بڑا تیرتا جزیرہ اچانک نمودار ہونے کے بعد پراسرار طور پر غائب ہوگیا، جس نے مقامی افراد اور سائنسی حلقوں کو حیران کردیا۔عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق تقریبا 2 فٹبال میدانوں کے برابر رقبے کا یہ تیرتا جنگل ساحل سے الگ ہوکر وِلسٹن ذخیر آب کے کھلے پانی میں پہنچ گیا تھا۔

دھوپ سے چلنے والی دنیا کی پہلی ایمبولینس کا کامیاب تجربہ

مقامی کشتی بان کی جانب سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے پھیل گیا۔برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے مطابق مصنوعی سیاروں سے حاصل تصاویر میں 21 جولائی کو اس تیرتے جزیرے کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کا حجم تقریبا 70 بائی 140 میٹر تھا۔برٹش کولمبیا ہائیڈرو کے ترجمان باب گیمر کے مطابق 2 ہفتے بعد حاصل کی گئی تازہ ترین مصنوعی سیاروں کی تصاویر میں تیرتے جزیرے کا کوئی نشان نہیں ملا۔ ادارے کے مطابق مزید تصاویر حاصل کی جائیں گی، تاہم موجودہ جائزے کے مطابق یہ جزیرہ ادارے کے آپریشنز کے لیے کوئی خطرہ نہیں تھا۔برٹش کولمبیا ہائیڈرو نے وضاحت کی کہ شدید برفباری اور بارش کے باعث پانی کی سطح ریکارڈ حد تک بلند ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں ساحل سے پودوں اور بہہ کر جمع ہونے والی لکڑی کا ایک بڑا حصہ اکھڑ کر پانی پر تیرنے لگا۔ تیز ہواں نے اسے کھلے پانی کی جانب دھکیل دیا، تاہم 5 اگست تک یہ دوبارہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔

 

ترک محقق کا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ڈھونڈنے کا دعویٰ

Next Post
پاکستان میں تیار کردہ سوزوکی گا ڑیوں کی برآمد کا باقاعدہ آغازہوگیا
Previous Post
حکومت نے غیر ضروری اخراجات کم کرکے ایک ارب روپے بچا لئے