اسلام آباد کے قریب روات میں سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں 24 اگست کو پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے نہ صرف طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں بلکہ پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں جن میں ایک باوردی فوجی افسر کو طلبہ کے درمیان دیکھا گیا، ہاتھا پائی ہوتی دکھائی دی اور بعد ازاں فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ واقعے کے بعد متعلقہ فوجی افسر کو تحویل میں لیے جانے اور انکوائری شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس واقعے کو صرف چند سیکنڈ کی وائرل ویڈیو دیکھ کر سمجھنا ممکن نہیں، کیونکہ اصل تنازع اس سے کئی دن پہلے یونیورسٹی کے اندر پیدا ہونے والے ایک انتظامی اختلاف سے شروع ہوا تھا۔ دستیاب اطلاعات، طلبہ کے بیانات، میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مختلف مؤقف کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ پہلے یونیورسٹی انتظامیہ کے اندر ایک تنازع تھا، جو بعد میں طلبہ کے احتجاج، مبینہ بدسلوکی، ایک فوجی افسر کی کیمپس آمد، ہاتھا پائی اور بالآخر ہوائی فائرنگ تک جا پہنچا۔
اطلاعات کے مطابق سرحد یونیورسٹی کے الائیڈ ہیلتھ سائنسز شعبے سے وابستہ ڈاکٹر جدون خان اور یونیورسٹی کی ایک خاتون انتظامی افسر کے درمیان کچھ عرصے سے اختلافات چل رہے تھے۔ مختلف ذرائع میں اس تنازع کی نوعیت کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر جدون خان ان کے مقبول استاد اور شعبے کے سربراہ تھے اور ان کے خلاف انتظامی کارروائی کے بعد طلبہ نے ان کی حمایت میں احتجاج شروع کیا۔ دوسری طرف بعض رپورٹس میں یونیورسٹی انتظامیہ سے منسوب مؤقف کے مطابق ڈاکٹر جدون خان کے خلاف شکایت کی گئی تھی اور اس معاملے کی انکوائری کے بعد انہیں معطل کیا گیا۔ یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ڈاکٹر جدون خان کی معطلی کو محض پسند یا ناپسند کا نتیجہ قرار دینا فی الحال ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، لیکن دستیاب معتبر رپورٹس میں یہ بات حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ انہیں صرف ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر معطل کیا گیا۔ اسی طرح ڈاکٹر جدون خان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی حتمی قانونی یا انتظامی حیثیت بھی انکوائری کے مکمل نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکتی ہے۔
واقعے کے اگلے مرحلے میں طلبہ میدان میں آئے۔ طلبہ نے ڈاکٹر جدون خان کے حق میں احتجاج کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف آواز بلند کی۔ بعض رپورٹس کے مطابق طلبہ نے ’’جسٹس فار سر‘‘ کے نعرے لگائے اور اپنے استاد کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ بعض اطلاعات میں فیس جمع کرانے کی مدت اور دیگر انتظامی مسائل بھی احتجاج کی وجوہات میں شامل بتائے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبہ کے تحفظات صرف ایک شخص کی معطلی تک محدود نہیں تھے۔ صورتحال اس وقت زیادہ حساس ہوگئی جب احتجاج کے دوران متعلقہ خاتون افسر بھی وہاں موجود تھیں۔ مختلف ذرائع میں اس موقع پر طلبہ اور خاتون افسر کے درمیان تلخ کلامی اور مبینہ بدسلوکی کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ بعض طلبہ نے خاتون افسر کے رویے پر اعتراض کیا جبکہ دوسری طرف یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ انہیں طلبہ کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دعوؤں کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
کراچی کی لڑکی ، سنگاپور میں ماڈلنگ اور اسلام آباد میں قتل
اسی دوران خاتون افسر کے شوہر، جو پاک فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز بتائے جاتے ہیں، یونیورسٹی پہنچے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک انتظامی تنازع اچانک انتہائی سنگین نوعیت اختیار کرگیا۔ دستیاب ویڈیوز اور میڈیا رپورٹس کے مطابق افسر یونیفارم میں کیمپس آئے اور طلبہ کے ساتھ ان کی تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔ بی بی سی اردو سے گفتگو میں ایک طالب علم نے دعویٰ کیا کہ افسر کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور انہوں نے بعض طلبہ کو مارا، جس کے بعد طلبہ اور افسر کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور افسر نے ہوائی فائرنگ کی۔ اس مرحلے پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ایک فوجی افسر کو ایسے ذاتی اور یونیورسٹی کے انتظامی تنازع میں خود کیمپس پہنچنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر ان کی اہلیہ کو طلبہ کی جانب سے کسی قسم کی بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا تھا تو اس کے ازالے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ، پولیس یا قانونی طریقہ کار موجود تھا۔ کسی بھی حساس صورت حال میں ایک باوردی اور مسلح افسر کی براہ راست طلبہ کے ہجوم میں آمد معاملے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ویڈیوز میں دکھائی دینے والے مناظر کے مطابق افسر اور طلبہ کے درمیان کشیدگی بڑھی، طلبہ نے انہیں گھیر لیا اور ہاتھا پائی کی صورتحال پیدا ہوئی۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ افسر نے ایک طالب علم کو چھڑی سے مارا، جس کے بعد طلبہ مشتعل ہوئے اور افسر کو دھکے دیے۔ اس کے بعد افسر نے اپنا ہتھیار نکالا اور اسے طلبہ کی جانب کیا، جبکہ بعد ازاں ہوائی فائرنگ کی گئی۔ میڈیا سمیت متعدد بین الاقوامی ذرائع نے بھی وائرل ویڈیوز کی بنیاد پر اس واقعے میں فائرنگ اور طلبہ کے ساتھ ہاتھا پائی کی اطلاع دی ہے۔ یہاں سب سے سنگین سوال فائرنگ کا ہے۔ تعلیمی ادارے میں، جہاں بڑی تعداد میں نوجوان موجود ہوں، کسی بھی قسم کا ہتھیار نکالنا اور فائرنگ کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اگرچہ دستیاب ابتدائی رپورٹس میں جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن کسی تعلیمی ادارے میں فائرنگ کی آواز بھی طلبہ اور اساتذہ کے لیے شدید خوف و ہراس کا باعث بن سکتی ہے۔ اس واقعے میں طلبہ کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایک باوردی افسر کے ساتھ طلبہ کی جانب سے ہاتھا پائی، دھکے یا تشدد ہوا تو یہ بھی قابل قبول طرز عمل نہیں۔ احتجاج، اختلاف رائے اور اپنے استاد کے حق میں آواز اٹھانا طلبہ کا حق ہوسکتا ہے، لیکن کسی شخص کو گھیر کر تشدد کا نشانہ بنانا یا قانون ہاتھ میں لینا کسی بھی صورت درست نہیں۔ اسی طرح اگر خاتون افسر کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی یا ان کے ساتھ بدسلوکی ہوئی تو اس کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کسی بھی فریق کو محض اس بنیاد پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ احتجاج کرنے والا فریق تھا۔
شوگر مافیا نے ایک سال کے دوران عوام کو کتنا لوٹا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر طلبہ نے اشتعال کا مظاہرہ کیا تو کیا اس کے جواب میں ایک مسلح اور باوردی افسر کا طاقت کا استعمال درست تھا؟ دستیاب اطلاعات کے مطابق پولیس کے افسران بھی موقع پر پہنچے اور بالآخر صورتحال کو گفت و شنید اور مداخلت کے ذریعے قابو کیا گیا۔ اس پہلو سے یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ اگر پولیس افسران نسبتاً کم طاقت کے باوجود مشتعل طلبہ کو مذاکرات کے ذریعے منتشر کرسکتے تھے تو ابتدائی مرحلے میں معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ راولپنڈی اور اسلام آباد کے صحافتی حلقوں میں اس واقعے پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ سینیئر صحافی راجہ لیاقت کی جانب سے بھی واقعے کے مختلف پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ اسے کسی ادارے کے خلاف عمومی مہم بنانے کے بجائے ایک مخصوص افسر کے انفرادی طرز عمل اور یونیورسٹی کے انتظامی تنازع کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ تاہم راجہ لیاقت سے منسوب تفصیلی مؤقف کی آزادانہ طور پر معتبر آن لائن تصدیق ہمیں نہیں مل سکی، اس لیے ان سے منسوب ہر تفصیل کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ بھی واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ہتھیار کی نوعیت کے حوالے سے مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں۔ بعض افراد اسے سرکاری ہتھیار قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اسے ذاتی پستول قرار دیتے ہیں۔ دستیاب معتبر رپورٹس سے فی الحال یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ استعمال ہونے والا ہتھیار سرکاری تھا یا ذاتی، اس لیے اس معاملے پر قیاس آرائی کے بجائے متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔
مالِ مفت دل بے رحم ،خیبر پختونخوا اسمبلی افسران اور ملازمین میں بندر بانٹ
دوسری جانب پاک فوج کی جانب سے متعلقہ افسر کو تحویل میں لیے جانے اور انکوائری شروع کیے جانے کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معاملے کو ادارہ جاتی سطح پر بھی سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق افسر کے خلاف ضابطہ جاتی کارروائی بھی زیر غور ہے اور تحقیقات کے ذریعے واقعے کے ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے گا۔ اس پورے واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تنازع کا آغاز ایک یونیورسٹی کے اندر انتظامی اختلاف سے ہوا اور معاملہ اس مقام تک پہنچ گیا جہاں طلبہ اور ایک مسلح افسر آمنے سامنے آگئے۔ تعلیمی ادارے علم، مکالمے اور اختلاف رائے کے مراکز ہوتے ہیں۔ اگر وہاں انتظامی فیصلوں پر اعتراض ہو تو اس کا جواب احتجاج، مذاکرات، اپیل اور قانونی طریقہ کار سے دیا جانا چاہیے۔ اسی طرح کسی طالب علم، استاد یا انتظامی اہلکار کو دھمکانا، مارنا یا ہراساں کرنا بھی مسئلے کا حل نہیں۔
اس واقعے میں غلطی کا تعین جذبات یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ شفاف تحقیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اگر ڈاکٹر جدون خان کے خلاف کارروائی میرٹ پر ہوئی ہے تو اس کے شواہد سامنے آنے چاہئیں، اور اگر کارروائی ذاتی اختلاف یا جانبداری کی بنیاد پر ہوئی تو ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ اگر طلبہ نے احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی کی یا کسی خاتون افسر کے ساتھ بدسلوکی کی تو اس کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ اسی طرح اگر فوجی افسر نے اپنی سرکاری حیثیت، وردی یا ہتھیار کا غیر مناسب استعمال کیا تو اس معاملے میں بھی بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
لیونل میسی اور رونالڈو کو بموں سے اڑانے کی دھمکی
اصل سبق یہی ہے کہ کسی بھی ادارے کا وقار افراد کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے نہیں بلکہ قانون، نظم و ضبط اور جواب دہی سے قائم رہتا ہے۔ کسی ایک افسر کے مبینہ غلط اقدام کو پورے ادارے سے جوڑنا بھی درست نہیں اور کسی ادارے سے وابستگی کی بنیاد پر کسی فرد کو قانون سے بالاتر سمجھنا بھی درست نہیں۔ اسی طرح طلبہ کے احتجاج کو محض شرپسندی قرار دینا بھی مسئلے کا حل نہیں اور احتجاج کی آڑ میں تشدد کو جائز قرار دینا بھی قابل قبول نہیں۔ سرحد یونیورسٹی روات کا یہ واقعہ اب ایک انکوائری کا موضوع ہے اور حتمی حقائق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔ فی الحال دستیاب شواہد یہ ضرور بتاتے ہیں کہ ایک انتظامی تنازع کو بروقت اور دانش مندانہ انداز میں حل نہ کیا گیا اور پھر مختلف فریقوں کے جذباتی ردعمل نے اسے انتہائی خطرناک تصادم میں تبدیل کردیا۔ سب سے ضروری بات یہی ہے کہ اس واقعے کو سیاست، ادارہ جاتی دشمنی یا سوشل میڈیا کی افواہوں کی نذر کرنے کے بجائے شفاف تحقیقات کے ذریعے دیکھا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ ابتدا میں تنازع کس وجہ سے پیدا ہوا، احتجاج کیوں شدت اختیار کر گیا، یونیورسٹی میں مسلح افسر کی آمد کیوں ہوئی، ہاتھا پائی کس نے شروع کی اور فائرنگ کی نوبت کیوں آئی۔ اگر تحقیقات غیر جانب دارانہ انداز میں مکمل ہوتی ہیں تو نہ صرف ذمہ دار افراد کا تعین ہوسکے گا بلکہ مستقبل میں تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی واضح طریقہ کار وضع کیا جاسکے گا۔ کیونکہ ایک استاد، ایک طالب علم، ایک یونیورسٹی انتظامیہ اور ایک ریاستی ادارے، سب کے لیے بنیادی اصول ایک ہی ہونا چاہیے اختلاف ہوسکتا ہے، احتجاج ہوسکتا ہے، شکایت ہوسکتی ہے، مگر قانون اور مکالمے کا راستہ نہیں چھوڑا جاسکتا۔

