اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں اب بھی ہر 10 میں سے ایک شخص انتہائی غربت کا شکار ہے، 2.3 ارب افراد ہر رات بھوکے سوتے ہیں۔عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق اقتصادی و سماجی کونسل(ای سی او ایس او سی ) کے اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امینہ محمد نے کہا کہ 2026 کی پائیدار ترقیاتی اہداف(ایس ڈی جی ایس) سے متعلق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایک تہائی سے زائد اہداف یا تو درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں یا ان پر معتدل پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم مختلف اہداف اور ممالک کے درمیان پیش رفت میں نمایاں تفاوت موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ بجلی تک رسائی دنیا کی 92 فیصد آبادی تک پہنچ چکی ہے
دنیا میں غربت میں مزید اضافے کا خدشہ

جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کا تناسب 2015 میں 40 فیصد سے بڑھ کر اب 74 فیصد ہو گیا ہے۔امینہ محمد نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف آج بھی انتہائی اہم ہیں اور ان کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں تاہم دنیا 2015 کے مقابلے میں بہت مختلف ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، غذائی عدم تحفظ، قرضوں کے بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات جیسے باہم جڑے ہوئے مسائل پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کی رفتار سست کر رہے ہیں، جبکہ زمین تیزی سے گرم ہو رہی ہے
مذاکرات ناکام، ملک بھر میں آج سے پیٹرول پمپ بند
اور پرتشدد تنازعات کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط، سرمایہ کاری میں اضافہ اور ایسے جامع حل اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو بیک وقت متعدد پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ہوں۔امینہ محمد نے 2027 کے ایس ڈی جی سربراہی اجلاس کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس محض پیش رفت کا جائزہ لینے تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے عملی نتائج اور نئے سیاسی عزم کا مظہر بننا چاہئے۔
ایران میں داخل ہونے کی کوشش کرنیوالے پانچ افغانی ہلاک ،14لاپتہ
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کی رپورٹ کے مطابق 2.3 ارب افراد کو سال کے دوران کسی نہ کسی مرحلے پر خوراک کی شدید یا معتدل قلت کا سامنا رہا، جبکہ کروڑوں افراد ایسے ہیں جو روزانہ مناسب اور غذائیت سے بھرپور خوراک حاصل نہیں کر پاتے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا کے کئی خطوں میں بھوک اور غذائی بحران مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتوں اور عالمی اداروں نے غربت کے خاتمے، زرعی پیداوار میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs)، خصوصاً غربت اور بھوک کے خاتمے کے اہداف، حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق افریقہ، جنوبی ایشیا اور بعض کم آمدنی والے ممالک غربت اور غذائی قلت سے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں بڑھتی آبادی، بے روزگاری، موسمیاتی آفات اور سیاسی عدم استحکام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پاکستان میں جعلی بلڈ کینسر ادویات فروخت ہونے کا انکشاف
ٹائی ٹینک حادثے سے چند روز قبل لکھا گیا نایاب خط نیلامی کیلئے پیش

