اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں 23 جولائی تک شدید موسمی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس دوران موسلادھار بارشوں، اچانک سیلاب، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا شدید خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے عوام، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون کا طاقتور سلسلہ داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد سمیت متعدد علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض مقامات پر قلیل وقت میں انتہائی زیادہ بارش ریکارڈ ہونے کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے، سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ ادارے کے مطابق دریائے کابل، دریائے سوات، دریائے چناب، دریائے جہلم اور دیگر دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جبکہ متعدد مقامات پر ندی نالے خطرناک حد تک بپھر سکتے ہیں۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے گریز کریں اور سیلابی ریلوں کے قریب جانے سے مکمل اجتناب کریں۔
کن علاقوں میں سب سے زیادہ خطرہ؟
این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید بارشوں کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کا امکان سب سے زیادہ ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بڑے پتھر اور مٹی کے تودے گرنے سے شاہراہیں بند ہونے، آمدورفت معطل ہونے اور سیاحوں کے پھنس جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح مری، گلیات، ناران، کاغان، دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد سمیت پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم شاہراہوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ متعلقہ انتظامیہ کو مشینری اور امدادی ٹیمیں الرٹ رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، ملتان، پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں شدید بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔ نکاسی آب کا نظام متاثر ہونے کی صورت میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر سکتی ہیں، جبکہ ٹریفک جام اور شہری زندگی مفلوج ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
مون سون نے خطرناک رخ اختیار کر لیا، آئندہ ہفتے کیلئے الرٹ جاری
ماہرین کے مطابق بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور کھلے تاروں کے قریب جانے سے گریز کیا جائے کیونکہ بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے حادثات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جاری کردہ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں دریائے چناب، جہلم اور کابل سمیت مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا امکان ہے، جبکہ مقامی ندی نالوں میں اچانک طغیانی آ سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی پنجاب کے برساتی نالے کسی بھی وقت خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں رہنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ این ڈی ایم اے نے سیاحوں کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ بارشوں کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، خصوصاً شمالی علاقوں کا رخ کرنے سے پہلے موسم کی صورتحال ضرور چیک کریں۔ سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ والے علاقوں میں سفر نہ کریں۔ دریا، آبشاروں اور ندی نالوں کے قریب تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے گریز کریں۔ رات کے وقت پہاڑی شاہراہوں پر سفر سے حتیٰ الامکان بچیں۔ گاڑی میں ایمرجنسی کٹ، ٹارچ، اضافی خوراک اور پانی ضرور رکھیں۔
خیبرپختونخوا اسمبلی اراکین پر مراعات کی بارش ! حقیقت کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشیں اگرچہ فصلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم مسلسل اور شدید بارشوں سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ زرعی آلات اور کھاد کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں جبکہ مویشیوں کو بھی نشیبی علاقوں سے نکال کر محفوظ جگہوں پر رکھا جائے۔ محکمہ موسمیات اور این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرج چمک کے باعث آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔ شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ طوفانی موسم کے دوران کھلے میدانوں، بلند درختوں، بجلی کے کھمبوں اور دھاتی اشیا سے دور رہیں۔ ملک بھر میں ریسکیو 1122، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور دیگر امدادی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حساس اضلاع میں امدادی سامان، کشتیوں، ہیوی مشینری اور طبی ٹیموں کو پہلے ہی تعینات کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔
موت سے پہلے انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ برطانوی نرس نے تجربہ بیان کر دیا
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ بچوں کو ندی نالوں اور برساتی پانی کے قریب نہ جانے دیں۔ موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔ ہنگامی صورت میں مقامی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔ بجلی کے کھلے تاروں سے دور رہیں۔ گاڑی چلانے کے دوران رفتار کم رکھیں۔ سیلابی پانی عبور کرنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔ این ڈی ایم اے نے شہریوں کو اپنی موبائل ایپ استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، جہاں موسم، بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی آفات سے متعلق بروقت الرٹس اور حفاظتی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا یہ سلسلہ گزشتہ کئی ہفتوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر مسلسل بارشوں کا سلسلہ برقرار رہا تو بعض علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا بھی امکان موجود ہے، اس لیے شہری افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے صرف مستند اداروں کی جاری کردہ معلومات پر انحصار کریں۔
افغانیوں کی بے دخلی جاری، مزید 3841 کو واپس بھیج دیا گیا
وفاقی اور صوبائی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کے انتظامات مکمل رکھے جائیں، حساس شاہراہوں پر مشینری موجود ہو، بجلی کی فراہمی بحال رکھنے کے لیے متعلقہ محکمے تیار رہیں اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رکھی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ 19 سے 23 جولائی تک ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید بارشوں، اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ، ندی نالوں میں طغیانی اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے عوام سے انتہائی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت احتیاط اور سرکاری ہدایات پر عمل ہی قیمتی جانوں اور املاک کو محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم کی بدلتی صورتحال پر نظر رکھیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ایمرجنسی میں فوری طور پر متعلقہ ریسکیو اداروں سے رابطہ کریں۔
بارشوں کا طاقتور سپیل کل شروع ہوگا، مختلف اضلاع کو الرٹ جاری

