وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22سال سے دہشتگردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی بے مثال قربانیوں کے باعث آج ملک کے دیگر حصوں، بشمول اسلام آباد اور راولپنڈی، میں بھی امن قائم ہے۔ صوبائی حکومت نے پولیس فورس کو دہشتگردی کیخلاف مئوثر کارروائی کے لیے تاریخ میں بے مثال مالی وسائل، جدید آلات اور شہدا پیکیج فراہم کیا ہے۔ پولیس فورس کی اصل ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے اور اسے کسی سیاسی تنازع یا سیاسی جماعت کیخلاف کارروائی میں الجھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس کو اپنی تمام تر توجہ پیشہ ورانہ فرائض، امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے پر مرکوز رکھنی ہوگی۔ امن و امان کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22 سال سے دہشتگردی کا مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں۔ پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018 سے 2022 تک عمران خان کی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا، تاہم 2022 میں رجیم چینج آپریشن اور ریاست کی غلط پالیسی کے باعث صوبے میں دوبارہ دہشتگردی لائی گئی۔
ہم نے احتجاج کیا اور ہر فورم پر آواز اٹھائی کہ دہشتگردوں کو دوبارہ آباد نہ کیا جائے، لیکن آج ریاست کی غلط پالیسی کے باعث فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک امن نہیں ہوگا، اس وقت تک ترقی اور خوشحالی نہیں آ سکتی۔ 15 اکتوبر 2025 کو حکومت سنبھالنے کے بعد صوبائی حکومت نے پولیس کے لیے تاریخ میں بے مثال فنڈز فراہم کیے۔ گزشتہ سال سالانہ بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے جبکہ رواں سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کیا گیا ہے۔ پولیس فرنٹ فٹ پر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہے اور حکومت کو پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا مکمل احساس ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کے شہدا پیکیج میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ جدید آلات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ادائیگی کے باوجود آلات کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا فوج کے ماتحت ہے اور خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ سال ہی ادائیگی کر چکی ہے، اس کے باوجود صوبے کی پولیس کے لیے مطلوبہ بکتر بند گاڑیاں تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔ اسلام آباد کے لیے جدید بکتر بند گاڑیاں تیار کرکے دے دی گئی ہیں
بائیو میٹرک تصدیق کیلئے اب نادرا جانے کی ضرورت نہیں
لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو اب تک بکتر بند گاڑیاں نہیں ملیں۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اسلام آباد کو دی جانے والی بکتر بند گاڑیاں صرف تحریک انصاف کے خلاف استعمال ہوں گی، اس لیے یہ گاڑیاں خیبرپختونخوا پولیس کو دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ این آر ٹی سی کو جیمرز اور ڈرونز کے خلاف دفاعی نظام کی مد میں ادائیگیاں بھی خیبرپختونخوا حکومت کر چکی ہے۔ این آر ٹی سی اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) سے مطالبہ ہے کہ جیمرز، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر ضروری آلات جلد از جلد خیبرپختونخوا پولیس کو فراہم کیے جائیں تاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس کو درکار وسائل میسر آ سکیں۔ سہیل آفریدی نے موجودہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا مرکز میں موجود جعلی حکومت کی ترجیح بن گیا ہے، جبکہ ہمارا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں، ہماری ترجیح دہشتگردی سے نمٹنا ہے۔ اگر پولیس کا مفاد بھی کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا بن جائے تو خیبرپختونخوا کے عوام کہاں جائیں گے؟ دہشتگردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی کے سیاسی مقاصد کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعلی نے واضح کیا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم نہیں دیا، کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی کسی کے خلاف غلط ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔ جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتا تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا حق نہیں۔
کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے۔ اگر کسی اور کی طرف سے غلط حکم آئے تو پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا گیا ہے۔ نہ کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت کی اور نہ پوسٹنگ اور تبادلوں کے معاملات میں مداخلت کی۔ گزشتہ چار پانچ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ پولیس کو مزاحمت کرنی چاہیے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات ماننے سے انکار کرکے عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کی۔ آج بھی پولیس کو غلط احکامات کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، ہم پرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ پرامن احتجاج روکنے کا حکم دینے والوں سے کہیں کہ آئین سے احتجاج کے حق کی شق نکال دیں۔ جب تک آئین میں اجتماع کا حق موجود ہے، ہم احتجاج کریں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے کل پولیس ایکٹ کی منظوری دی ہے، اسمبلی میں اس میں مزید ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی۔ پولیس کو دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کا بنیادی فرض صوبے کے عوام کے جان و مال کا تحفظ، دہشتگردی کا مقابلہ اور امن و امان کا قیام ہے۔ پولیس کو سیاسی کشمکش سے دور رہتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا ہوں گے اور کسی بھی جانب سے آنے والے غلط احکامات کو ماننے کے بجائے قانون اور اپنے فرائض کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔
فکسڈ ٹیکس سکیم بھی ناکام، صرف 2نئے دکاندار شامل
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22سال سے دہشتگردی کے خلاف مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی بے مثال قربانیوں کے باعث آج ملک کے دیگر حصوں، بشمول اسلام آباد اور راولپنڈی، میں بھی امن قائم ہے۔ صوبائی حکومت نے پولیس فورس کو دہشتگردی کیخلاف مئوثر کارروائی کے لیے تاریخ میں بے مثال مالی وسائل، جدید آلات اور شہدا پیکیج فراہم کیا ہے۔ پولیس فورس کی اصل ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے اور اسے کسی سیاسی تنازع یا سیاسی جماعت کیخلاف کارروائی میں الجھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس کو اپنی تمام تر توجہ پیشہ ورانہ فرائض، امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے پر مرکوز رکھنی ہوگی۔ امن و امان کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور عوام گزشتہ 22 سال سے دہشتگردی کا مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں۔ پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018 سے 2022 تک عمران خان کی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا، تاہم 2022 میں رجیم چینج آپریشن اور ریاست کی غلط پالیسی کے باعث صوبے میں دوبارہ دہشتگردی لائی گئی۔ ہم نے احتجاج کیا اور ہر فورم پر آواز اٹھائی کہ دہشتگردوں کو دوبارہ آباد نہ کیا جائے، لیکن آج ریاست کی غلط پالیسی کے باعث فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک امن نہیں ہوگا، اس وقت تک ترقی اور خوشحالی نہیں آ سکتی۔ 15 اکتوبر 2025 کو حکومت سنبھالنے کے بعد صوبائی حکومت نے پولیس کے لیے تاریخ میں بے مثال فنڈز فراہم کیے۔
گزشتہ سال سالانہ بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے جبکہ رواں سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کیا گیا ہے۔ پولیس فرنٹ فٹ پر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہے اور حکومت کو پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا مکمل احساس ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کے شہدا پیکیج میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ جدید آلات کی فراہمی کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ادائیگی کے باوجود آلات کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا فوج کے ماتحت ہے اور خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ سال ہی ادائیگی کر چکی ہے، اس کے باوجود صوبے کی پولیس کے لیے مطلوبہ بکتر بند گاڑیاں تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔ اسلام آباد کے لیے جدید بکتر بند گاڑیاں تیار کرکے دے دی گئی ہیں، لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو اب تک بکتر بند گاڑیاں نہیں ملیں۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ اسلام آباد کو دی جانے والی بکتر بند گاڑیاں صرف تحریک انصاف کے خلاف استعمال ہوں گی، اس لیے یہ گاڑیاں خیبرپختونخوا پولیس کو دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ این آر ٹی سی کو جیمرز اور ڈرونز کے خلاف دفاعی نظام کی مد میں ادائیگیاں بھی خیبرپختونخوا حکومت کر چکی ہے۔ این آر ٹی سی اور ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) سے مطالبہ ہے کہ جیمرز، بکتر بند گاڑیاں اور دیگر ضروری آلات جلد از جلد خیبرپختونخوا پولیس کو فراہم کیے جائیں تاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس کو درکار وسائل میسر آ سکیں۔ سہیل آفریدی نے موجودہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی ترجیحات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے بجائے تحریک انصاف کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا مرکز میں موجود جعلی حکومت کی ترجیح بن گیا ہے، جبکہ ہمارا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں، ہماری ترجیح دہشتگردی سے نمٹنا ہے۔ اگر پولیس کا مفاد بھی کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا بن جائے تو خیبرپختونخوا کے عوام کہاں جائیں گے؟
ایران نے جنگ کے خاتمے کی شرائط مزید سخت کردیں
دہشتگردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی کے سیاسی مقاصد کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعلی نے واضح کیا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم نہیں دیا، کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے کا حکم نہیں دیا اور نہ ہی کسی کے خلاف غلط ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔ جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتا تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا حق نہیں۔ کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے۔ اگر کسی اور کی طرف سے غلط حکم آئے تو پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا گیا ہے۔ نہ کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت کی اور نہ پوسٹنگ اور تبادلوں کے معاملات میں مداخلت کی۔ گزشتہ چار پانچ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ پولیس کو مزاحمت کرنی چاہیے اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ 8 فروری 2024 کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات ماننے سے انکار کرکے عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کی۔ آج بھی پولیس کو غلط احکامات کی مزاحمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، ہم پرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔ پرامن احتجاج روکنے کا حکم دینے والوں سے کہیں کہ آئین سے احتجاج کے حق کی شق نکال دیں۔ جب تک آئین میں اجتماع کا حق موجود ہے، ہم احتجاج کریں گے۔ وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے کل پولیس ایکٹ کی منظوری دی ہے، اسمبلی میں اس میں مزید ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی۔ پولیس کو دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کا بنیادی فرض صوبے کے عوام کے جان و مال کا تحفظ، دہشتگردی کا مقابلہ اور امن و امان کا قیام ہے۔
خیبرپختونخوا کے53 مقامات پر پرندوں کے شکار پر پابندی عائد
پولیس کو سیاسی کشمکش سے دور رہتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا ہوں گے اور کسی بھی جانب سے آنے والے غلط احکامات کو ماننے کے بجائے قانون اور اپنے فرائض کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔قبل ازیں دلہ زاک چوک انڈر پاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ آج عوام نے افتتاحی تقریب کو جلسے میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں جگہ اور وقت آپ منتخب کریں، تمام سیاسی جماعتیں جلسہ کریں اور ہم بھی جلسہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ جیتے تو وہ استعفیٰ دیں گے اور اگر ہم جیتے تو انہیں عمران خان سے معافی مانگنا ہوگی۔وزیراعلی نے کہا کہ پنجاب کے دورے کے دوران ان کے لیے راستے، مارکیٹیں اور دیگر مقامات بند کیے گئے، جبکہ گزشتہ روز آنے والے ایک وفاقی وزیر کے لیے خیبرپختونخوا میں کوئی راستہ بند نہیں کیا گیا، تاہم ان کے ساتھ ٹانگے برابر لوگ بھی نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم طاقت کے مقابلے سے نہیں ڈرتے، میں فکس میچ نہیں کھیلتا، اسی لیے مخالفین خوفزدہ ہیں۔ جو کنٹینر کھڑے کیے گئے ہیں، کیا عوام ان سے ڈرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے کھلاڑی ہیں اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔وزیراعلی نے نوجوانوں سے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ عوام کا جذبہ ٹی ٹوئنٹی میچ والا ہے، لیکن اس مرتبہ ٹیسٹ میچ ہے، پہلے آہستہ کھیلیں گے اور پھر چھکے لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود خیبرپختونخوا میں امن تھا، جبکہ افغانستان میں موجودہ حکومت کے آنے پر پاکستان میں جشن منایا گیا، اس کے باوجود آج افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے افغانستان کے معاملے میں اسٹیٹس مین کا کردار ادا کیا اور کسی طاقتور کی نوکری کرنے کے بجائے ہمیشہ پاکستان کے قومی مفاد میں کام کیا۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بری خبر آگئی
ان کے بقول آج پاکستان پر قابض حکمران مختلف لوگوں کی نوکریاں کر رہے ہیں، کبھی کسی کی خوشنودی کے لیے افغانستان کو ناراض کیا جاتا ہے اور کبھی چین کو۔ قومیں اور ممالک اسی وقت ترقی کرتے ہیں جب عوامی مفادات کو مقدم رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ بھارت سے خطرہ نہیں، باقی صوبوں سے خطرہ ہے، جو پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات کرتے اور ملک لوٹتے ہیں، انہیں ہمیشہ سر پر بٹھایا جاتا ہے، جبکہ جو پاکستان اور پاکستانی عوام کی بات کرتے ہیں انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ترقی، خوشحالی اور قومی یکجہتی دیکھنی ہے تو اپنے حقوق کے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا۔وزیراعلی نے کہا کہ پاکستان میں تمام اداروں کا مقام دوبارہ بحال کرنے اور ملک کو دوبارہ وقار دلانے کے لیے عمران خان کو واپس لانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کی دولت بھی ان کی قیمت نہیں لگا سکتی اور پوری دنیا کی طاقت اکٹھی ہو کر بھی انہیں نہیں جھکا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں پرامن رہنے کی تعلیم دی ہے، اس لیے وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر جمہوری جنگ لڑیں گے۔ طاقتور لوگوں کو آئین، قانون، جمہوریت، آزاد میڈیا اور امن تکلیف دیتا ہے، جبکہ عمران خان کا حقیقی آزادی کا خواب سب مل کر پورا کریں گے۔

