تہران: ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے پاسداران انقلاب سے براہ راست رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ایرانی فورسز نے ان تمام کوششوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ امریکا نے ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہم اس طرح کے کسی بھی رابطے کو مسترد کرتے ہیں، اور جب تک دشمن اپنی دشمنی جاری رکھے گا اس کے ساتھ ہمارا رویہ سخت اور ہتھیار کے ذریعے ہوگا۔
سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے بری خبر آگئی
انہوں نے بتایا کہ تہران نے جون میں جنگ بندی کے لیے طے پانے والے اسلام آباد معاہدے کی منسوخی کے بعد امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط کو پہلے سے زیادہ سخت کر دیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ایک اور گھنانا عمل کیا، اس لیے ہم نے اپنی شرائط سخت کر دی ہیں، اور اگر امریکا نے یہ رویہ جاری رکھا تو وہ اپنے لیے معاملات کو مزید مشکل ہی بنائیں گے، کیونکہ ان کے پاس ایران کی شرائط تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔حسین محبی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کوئی نیا حملہ کیا تو اس کا جواب انتہائی شدید اور جارحانہ ہوگا۔ان کے بقول اگر امریکا نے عجلت میں کوئی قدم اٹھایا اور تاریخ نے خود کو دہرایا تو ہماری مزاحمت بلاشبہ مزید شدید ہو جائے گی
شمالی کوریا کے زیرِ زمین جوہری تجربات کے بعد دنیا میں 1399 زلزلے
جو ہمارے حاصل کردہ تجربے سے لیس ہوگی، اور اس بار ہم صرف جواب دینے پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ ایسا جارحانہ موقف اختیار کریں گے کہ امریکا اپنے اعمال پر پچھتائے گا اور اسے پہلے سے کہیں زیادہ ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ معاشی ناکہ بندی سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ امریکا معاشی ناکہ بندی کے ذریعے اپنے مقاصد کبھی حاصل نہیں کر پائے گا۔حسین محبی کے مطابق، ایران کے سخت مطالبات میں اب مذاکرات کے آغاز سے قبل چوبیس ارب ڈالر کے تمام منجمد اثاثوں کی ایک ساتھ یکمشت بحالی شامل ہے، جبکہ سفارتی امور کی ذمہ داری ایرانی وزارت خارجہ سنبھال رہی ہے۔

