تحریک انصاف کا لانگ مارچ لکی مروت سے سفر کرتا ہوا کرک پہنچ گیا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلے آج کرک سے کوہاٹ کی جانب روانہ ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق مختلف اضلاع سے آنے والے قافلے مرحلہ وار لانگ مارچ میں شامل ہو رہے ہیں، جبکہ کرک میں رات قیام کے بعد آج تین بجے کے قریب قافلوں کی کوہاٹ روانگی متوقع ہے۔ لانگ مارچ کے شرکا کوہاٹ میں رات قیام کریں گے، جہاں کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے آنے والے قافلے بھی مارچ کا حصہ بنیں گے، جس کے بعد قافلے کل 6 اکتوبر کو قافلہ پشاور کی جانب پیش قدمی کرے گا۔ پی ٹی آئی کے منصوبے کے مطابق پشاور پہنچنے پر متنی کے قریب رات قیام ہوگا، جبکہ اگلے مرحلے میں پشاور سے قافلہ چارسدہ انٹرچینج اور پھر خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں سے آنے والے قافلوں کے ساتھ خیرباد کی جانب بڑھے گا۔
وفاقی آئینی عدالت کا سزائے موت پر عملدرآمد معطل رکھنے کا اعلان
خیرباد میں آٹھ اکتوبر کو خیبرپختونخوا بھر کے قافلوں کے اجتماع کے بعد لانگ مارچ کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کا لانگ مارچ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا، لکی مروت سے شروع ہونے والا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ رات گئے کرک پہنچا، جہاں بنوں اور کرک کے درمیان ختم نبوت چوک پر وزیراعلیٰ نے شرکا سے خطاب کیا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، تاہم حکومت کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں بعض ایسے مطالبات سامنے آئے جنہیں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا اور عوام کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے فوجی آپریشنز، ڈرون حملوں اور خیبرپختونخوا سے متعلق پالیسیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبے سے متعلق فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہئیں۔
سہیل آفریدی نے ”احساسِ بے زبان صحت گاڑی” منصوبے کا افتتاح کردیا
لانگ مارچ کے پہلے مرحلے میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے قافلے لکی مروت میں اکٹھے ہوئے تھے، جہاں سے مارچ نے کرک کی جانب سفر شروع کیا۔ اب آج کرک سے قافلے کوہاٹ کی جانب روانہ ہوں گے اور کوہاٹ میں رات قیام کے بعد چھ اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے مزید قافلے مارچ میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد قافلہ پشاور کی جانب بڑھے گا اور متنی کے قریب قیام کرے گا۔ سات اکتوبر کو پشاور کے مختلف علاقوں اور خیبر سے آنے والے قافلے بھی مارچ کا حصہ بنیں گے، جبکہ چارسدہ اور مہمند کے قافلوں کی شمولیت کے بعد آٹھ اکتوبر کو تمام قافلوں کے خیرباد میں جمع ہونے کا منصوبہ ہے۔ دوسری جانب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک کے بعد سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ مذاکرات میں خاص طور پر خیبرپختونخوا میں انسداد دہشت گردی اقدامات اور بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی کے معاملات پر اختلافات سامنے آئے۔
کوہاٹ میں ڈینگی بے قابو، ایک ہفتے میں 237 نئے کیس رپورٹ
لانگ مارچ کے پیش نظر خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی خدشات کے باعث دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت نقل و حرکت پر پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اسلام آباد کی طرف جانے والے راستوں پر بھی سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کی جدوجہد آئینی اور سیاسی ہے اور مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رہے گا، تاہم اسلام آباد کی جانب مارچ کے حتمی مرحلے اور آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ خیرباد میں اجتماع کے بعد کیا جائے گا۔

