گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسمبلی تحلیل کرنا حکومت کا کام ہے، جب اسمبلی تحلیل ہوگی تب آئینی اور قانونی طریقے کے مطابق دیکھا جائے گا کہ اس وقت کیا پوزیشن بنتی ہے۔ پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن لوگوں کو خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی خواہش ہے، انہیں اس معاملے پر سوچنا چاہیے۔ ہماری اسمبلی تحلیل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو اس کے بعد دوبارہ انتخابات ہوں گے، اس لیے ہر معاملہ آئینی اور قانونی طریقے سے ہونا چاہیے۔ اسمبلی کی تحلیل سمیت تمام معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی دیکھے جائیں گے۔
پاراچنار میں قبرستان کی اراضی کی قلت کا انوکھا حل نکال لیا گیا
گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی اسمبلی میں ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے کہا کہ اس وقت اپوزیشن عدم اعتماد کی تحریک لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی اراکین کی تعداد 91 جبکہ اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 52 ہے، دونوں جانب اراکین کی تعداد میں کافی فرق موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اعداد و شمار کے تحت اپوزیشن کے لیے وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنانا آسان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تحریک انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنتا اور اس کے اراکین اپوزیشن کے ساتھ نہیں ملتے، اس وقت تک عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جا سکتی۔ فیصل کریم کنڈی نے موجودہ صورتحال میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ موجودہ صورتحال میں وزیر اعلیٰ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ اراکین وزیر اعلیٰ کے خلاف ضرور ہیں، لیکن ان میں وزیر اعلیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں ہے۔
آئی ایم ایف شرائط، حکومت 174 ترامیم جلد پاس کرنے کیلئے متحرک
تحریک انصاف کے بعض اراکین نجی محفلوں میں وزیر اعلیٰ کے خلاف باتیں کرتے رہتے ہیں، تاہم وہ عملی طور پر وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں آتے۔ گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر بھی بعض اراکین وزیر اعلیٰ کے خلاف تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج وہ کہاں ہیں؟ اسی طرح بہت سارے اراکین سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف بھی تھے، لیکن بعد میں وہ کہاں چلے گئے؟ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیاسی معاملات میں محض نجی محفلوں میں اختلاف رائے کافی نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی اقدام کے لیے عملی طور پر اراکین کو سامنے آنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کے اندر ایسا کوئی فارورڈ بلاک نظر نہیں آ رہا جو اپوزیشن کے ساتھ مل کر وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب بنا سکے۔ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی تحلیل یا وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سمیت تمام معاملات آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی دیکھے جائیں گے۔
گورنر راج لگانے پر ردعمل آئے گا اور بہت سے لوگوں کو بہا کر لے جائے گا، جنید اکبر

