قبائلی ضلع کرم کے ضلعی ہیڈکوارٹر اور مرکزی شہر پاراچنار میں قبرستانوں کے لیے اراضی کی مبینہ قلت اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر ایک مقامی قبائلی نے ایرانی آغا قبرستان سے متصل تقریباً 11 مرلے کمرشل اراضی پر 123 پختہ کنکریٹ کی قبریں تعمیر کرکے تدفین کے لیے تیار کر دی ہیں جبکہ ہر قبر کی قیمت ایک لاکھ 25 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔مقامی میڈیا رپورٹس اور ذرائع کے مطابق تمام قبریں باقاعدہ تعمیر کرکے تیار حالت میں رکھی گئی ہیں۔ اراضی کے مالک ناصر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انہوں نے یہ اقدام کاروباری مقصد کے لیے نہیں بلکہ پاراچنار شہر میں آبادی میں اضافے اور موجودہ قبرستانوں میں گنجائش محدود ہونے کے باعث شہریوں کی سہولت کے لیے اٹھایا ہے۔ناصر کے مطابق وہ اس سے قبل بھی کئی سال پہلے 500 سے زائد قبریں تیار کرکے ضرورت مند خاندانوں کے حوالے کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فی قبر مقرر کی گئی قیمت میں اراضی کی قیمت، قبر کی کھدائی اور کنکریٹ کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں۔
سہیل آفریدی نے ”احساسِ بے زبان صحت گاڑی” منصوبے کا افتتاح کردیا
انہوں نے کہا کہ قبرستان کی حفاظت کے لیے باؤنڈری وال بھی تعمیر کی جائے گی جبکہ مذکورہ اراضی قابل انتقال ہے اور اگر کوئی خریدار چاہے تو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اس کا انتقال بھی اپنے نام کرا سکتا ہے۔اراضی کے مالک کا کہنا تھا کہ پاراچنار میں آبادی میں اضافے کے باعث شہریوں کو تدفین کے لیے مناسب جگہ کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جس کے پیش نظر نجی سطح پر تدفین کے لیے جگہ فراہم کرنے کا یہ اقدام کیا گیا ہے۔اس غیر معمولی اقدام پر شہریوں کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق قبرستانوں کے لیے زمین کی قلت اور تدفین کے فوری مسائل کے تناظر میں نجی سطح پر جگہ فراہم کرنے کی کوشش ایک عملی اور قابل غور حل ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب شہر میں تدفین کے لیے مناسب اراضی کی دستیابی ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔تاہم، بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ قبرستانوں کے لیے زمین کی فراہمی بنیادی طور پر ایک اجتماعی اور شہری ضرورت ہے جس کے لیے سرکاری سطح پر بھی مستقل منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
اسلام آباد جانے کا فیصلہ مئوخر، تحریک انصاف کا کرک جانے کا اعلان
بعض شہریوں نے نشاندہی کی کہ پاراچنار کے نواحی علاقوں میں بنجر اور غیر آباد اراضی کے وسیع رقبے موجود ہیں اس لیے قبرستانوں کے لیے مناسب زمین مختص کرنے کے لیے سرکاری اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل کی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاراچنار میں قبرستانوں کے لیے مناسب اراضی سرکاری سطح پر مختص کی جائے اور شہریوں کو تدفین کے لیے باعزت، قابل رسائی اور مناسب سہولت کی فراہمی کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔
سائنسدان 3 لاکھ سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب

