وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی خصوصی ریلیف سکیم کے تحت موٹرسائیکل والے ہفتے میں ایک بار اور گاڑی والے ہر 10 دن میں ایک بار پیٹرول پر دی گئی سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں،گاڑی کیلئے 10 لیٹر اور بائیک کیلئے 5 لیٹر کا ٹوکن ہوگا۔ اسکیم کے تحت 2 ویلر، 3 ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑی والوں کو ریلیف دیا جائیگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا ۔ شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم نے غریب طبقے کیلئے ریلیف کا اعلان کیا ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس پیکج سے مستفید ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ 15 سال پرانی موٹرسائیکلیں اور 20 سال پرانی گاڑیاں بھی اس پروگرام کے لئے اہل ہوں گی۔انہوں نے بتایا کہ عالمی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں
پنشنرز کیلئے پنشن ادائیگی کا نیا طریقہ کار جاری
اس لیے ہمیں فیول ریلیف اسکیم کے اس پروگرام کو مکمل توازن کے ساتھ لے کر چلنا ہے۔شزا فاطمہ نے کہا کہ موٹرسائیکل والے ہفتے میں ایک بار اور گاڑی والے ہر 10 دن میں ایک بار سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن کیلئے آپ کو صرف چار چیزیں فراہم کرنی ہیں اور جس نمبر سے میسج کیا جائے وہ شناختی کارڈ اور موبائل سِم آپ کے نام پر ہونا لازمی ہے۔ شزا فاطمہ نے بتایا کہ یہ پروگرام دو حصوں میں تقسیم ہے، پہلے حصے میں رجسٹرڈ ہوناہے، صارف نے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم سے REG، شناختی کارڈ نمبر، صوبے کا پہلا ہندسہ (مثال کے طور پر آپ سندھ سے ہیں تو آپ نے S لکھنا ہے) اور بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ لکھ کر 9771 پر بھیجناہے۔وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے مزید کہا کہ کہ رجسٹریشن کے بعد پھر جب آپ پیٹرول لینے جائیں گے تو صارف نے 9771 پر TOK لکھ کر میسج کرنا ہے اور اپنا موصول شدہ ٹوکن پیٹرول پمپ پر دکھا کر سبسڈی حاصل کرنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنا شناختی کارڈ نمبر یا کوئی بھی ڈیٹا کسی سے بھی شیئرنہیں کرنا، حکومت شہریوںسے نہ کوئی ڈیٹا مانگے گی اور نہ ہی کوئی چارجز مانگے گی، اس میں جو بھی غلطیاں ہوں گی
افشاں خان ویمن چیمبر آف کامرس کی بلامقابلہ صدر منتخب
ان کو دیکھیں گے اور ٹھیک کرتے جائیں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسکیم کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سبسڈی صرف غریب آدمی اور مستحق لوگوں کیلئے شروع کی گئی ہے، کیونکہ ہمارے ملک میں سب سے غریب طبقہ چنگچی اور موٹرسائیکل پر سفر کرتا ہے۔وزیراعظم نے مستحق افراد کے لئے خصوصی ریلیف سکیم کا اجرا کیا،یہ ریلیف ان لوگوں کے لئے ہے جن پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ ہے۔ ہر کسی کے پاس سمارٹ فون نہیں، اس لئے ایپ نہیں بنائی، انہوں نے بتایا کہ 9771 نمبر سے موصول ہونے والا ٹوکن پمپ پر دکھا کر پیٹرول لیا جا سکے گا۔ یہ سہولت 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی رات سے اسلام آباد جبکہ 16 ستمبر کی رات بارہ بجے سے پورے پاکستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں دستیاب ہوگی۔ موٹر سائیکل اور 800 سی سی گاڑی تک ریلیف ملے گا،9771 سے موصول ہونے والا ٹوکن پیٹرول پمپ پر دکھانا ہے
پیسکو کارکردگی بہتر بنانے کے منصوبے کی لاگت 30ارب 26کروڑ روپے ہوگئی
ایسا نظام پہلے کبھی نہیں متعارف کروایا گیا۔وزیراعظم نے عوام کے دکھ کا احساس کرتے ہوئے خصوصی سکیم کا اجرا کیا۔ کوشش کررہے ہیں پیٹرول پمپس پر قطاریں نہ لگیں،سبسڈی کیلئے رجسٹریشن گھر بیٹھے ہی ہو سکے گی،لیوی کم کرنے سے امیر طبقہ بھی سبسڈی سے مستفید ہوتا۔وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک کاکہناتھا کہ خطے کی صورتحال سے سب واقف ہیں،پاکستان 90فیصد توانائی کی ضروریات درآمد کررہا ہے،حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کررہی ہے،وزیراعظم ریلیف پیکیج کا اجراکمزور طبقے کیلئے کیا گیا، وزیراعظم نے عوام کو 130ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی۔ پیٹرول ریلیف اسکیم کے نام پر فراڈ کا خطرہ، وزارت آئی ٹی نے عوام کو جعلسازوں سے محفوظ رکھنے کیلئے اینٹی فراڈ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔وفاقی وزیرآئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے و زارت کو مہم کی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کردی،انہوں نے کہاہے کہ سستا پیٹرول ریلیف اسکیم کے نام پر جعلسازوں کی جانب سے عوام کو فراڈ کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے،اس لیے شہریوں کو آگاہی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے عوام کو خبردارکیا کہ سستا پیٹرول ریلیف اسکیم کے نام پرموصول ہونے والی مشکوک کالز اور پیغامات پر اعتماد نہ کریں اور کسی کو ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم میں رجسٹرڈ افرادکی تفصیلات کی جارہی ہیں ،رجسٹریشن کے دوران درپیش مشکلات کا بھی ازالہ کیاجارہا ہے،غلط صوبہ منتخب کرنے اورتاریخ پیدائش کا غلط فارمیٹ درج کرنے سے رجسٹریشن فیل ہوجاتی ہے،شہری رجسٹریشن کے دوران وہی صوبہ منتخب کریں جہاں انکی گاڑی رجسٹرڈ ہے۔
خیبرپختونخوا میں سیاحت کے نئے دور کا آغاز، قدرتی حسن کے تحفظ، سیاحوں کی حفاظت کیلئے اہم اقدامات

