پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے عالمی بینک سے مالی معاونت حاصل کرنے والے بجلی کی تقسیم کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے منصوبے کی لاگت پر نظرثانی کرکے 30 ارب 25 کروڑ 60 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب تازہ منصوبہ جاتی تفصیلات کے مطابق منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت 10 کروڑ 80 لاکھ 60 ہزار ڈالر یعنی 30 ارب 25 کروڑ 58 لاکھ 40 ہزار روپے ہے اور فی الحال قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری کا منتظر ہے۔ یہ منصوبہ دسمبر 2021 میں ابتدائی طور پر 7 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار ڈالر یعنی 11 ارب 75 کروڑ 8 لاکھ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا۔عالمی بینک کی مالی معاونت سے پیسکو اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ منصوبے پر اب تک 21 فیصد کام مکمل ہوا ہے جبکہ مالی پیش رفت 22.19 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اب تک اصل اخراجات 2 ارب 60 کروڑ 69 لاکھ 63 ہزار روپے رہے ہیں۔منصوبے کی ابتدائی تکمیل دسمبر 2025 مقرر کی گئی تھی، تاہم نظرثانی کے بعد نئی تکمیل کی تاریخ دسمبر 2027 مقرر کی گئی ہے۔منصوبے کا مقصد پیسکو کے زیرِ انتظام منتخب علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا اور اصلاحات پر عمل درآمد کی ادارہ جاتی صلاحیت مضبوط کرنا ہے۔ منصوبے میں گرڈ کی قابلِ اعتماد کارکردگی بہتر بنانا، بجلی کی تقسیم کے نظام اور انتظامی امور کو جدید بنانا، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔
نیپال سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1,301ہوگئی
منصوبے کی تفصیلات کے مطابق تاخیر کی ایک بڑی وجہ عالمی بینک کے خریداری کے نظام کے تحت مختلف مراحل میں ہونے والے جائزے اور عدم اعتراض کی منظوری کے لیے درکار طریقہ کار ہے۔منصوبے کے پہلے حصے کے تحت بجلی کے ٹرانسفارمرز کی تعداد اور استعداد بڑھانے اور توسیع کے لیے خریداری کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں ٹینڈر 12 مئی 2026 کو کھولا گیا تھا جبکہ تکنیکی پیشکشوں کا جائزہ جاری ہے۔دوسرے حصے کے تحت بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری کے کئی اقدامات مختلف مراحل میں ہیں۔پیسکو کے 11 کے وی فیڈرز پر 20,723 خودکار و ذہین میٹرز نصب کرنے کے لیے بولی کی دستاویزات پی پی ایم سی کی تکنیکی خصوصیات کے مطابق تیار کرکے 22 جولائی 2026 کو عالمی بینک کو دوبارہ بھیجی گئیں، تاکہ جائزے اور عدم اعتراض کی منظوری کے بعد انہیں جاری کیا جاسکے۔پیسکو اپنے جغرافیائی معلوماتی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو آرک جی آئی ایس انٹرپرائز میں منتقل کر رہی ہے۔
خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات
عالمی بینک کی تجاویز شامل کرنے کے بعد بولی کی دستاویزات منصوبے کے نفاذ اور انتظامی معاونت فراہم کرنے والے مشیر سے 24 جولائی 2026 کو موصول ہوئیں اور اسی روز جائزے اور عدم اعتراض کے لیے عالمی بینک کو دوبارہ بھیج دی گئیں۔ایک اور اقدام کے تحت 5 سے 20 کلوواٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 55,250 جدید میٹرنگ نظام کے میٹرز نصب کیے جائیں گے۔ عالمی بینک کی جانب سے تکنیکی جائزے کی رپورٹ پر عدم اعتراض کے بعد مالی پیشکشیں 20 مئی 2026 کو کھولی گئیں اور جائزے اور عدم اعتراض کے لیے رپورٹ بینک کو بھجوا دی گئی۔منصوبے میں پشاور اور خیبر سرکلز کے 60 فیڈرز پر 1,298 کلومیٹر طویل فضائی بنڈل کیبل نصب کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے بولی کی دستاویز 26 مئی 2026 کو عالمی بینک کو بھیجی گئی اور ضروری ترامیم کے بعد 9 جولائی کو دوبارہ جائزے اور عدم اعتراض کے لیے جمع کرائی گئی۔مالی سال 2026-27 کے لیے اس منصوبے کو 2 ارب 41 کروڑ 80 لاکھ 51 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پہلی سہ ماہی کے لیے 33 کروڑ 66 لاکھ 44 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم منصوبے کی تفصیلات میں مالی سال 2026-27 کے دوران اب تک اخراجات صفر ظاہر کیے گئے ہیں۔
شپنگ اخراجات میں اضافہ، پاکستانی برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر

