Skip to main contentSkip to footer

نیپال سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1,301ہوگئی

نیپال سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 1,301ہوگئی

نیپال اور تبت میں نو روز قبل آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1,301 افراد ہلاک جبکہ 5,339 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔نیپالی پولیس کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 1,280 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 4,798 افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔دوسری جانب تبت میں حکام نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ 541 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔حکام کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں کم از کم 34 مختلف ممالک کے سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جس کے باعث یہ سانحہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔دریں اثنا نیپال میں امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی کم از کم چھ سرنگوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے

نیپال،کوہ پیمائوں کو زہر دے کر ریسکیو کا ڈرامہ، ایورسٹ پر کروڑوں ڈالرز کا فراڈ بے نقاب

جہاں 150 سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔امدادی ٹیمیں وقت کے خلاف دوڑتے ہوئے لاپتا افراد کی تلاش اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔یاد رہے کہ جمعہ کو تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو کارکنوں کو نو روز بعد زندہ نکال لیا گیا تھا، جس کے بعد دیگر پھنسے افراد کے اہل خانہ میں بھی امید کی نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔نیپال کے وزیراعظم کے دفتر نے بتایا ہے کہ ہائیڈرو پاور پلانٹ کی سرنگ سے ریسکیو کیے گئے دو کارکنوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔سرکاری بیان کے مطابق دوسرے نمبر پر ریسکیو کیے جانے والے کبیر مہارجن کی حالت نازک ہے اور وہ کھٹمنڈو کے آرمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دوسرے کارکن سنجیا ساہا کا بھی اسی ہسپتال میں طبی معائنہ کیا جائے گا۔دونوں کارکنوں کو جمعہ کی صبح ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

کارخانے کی توسیع کے دوران 2600سال پرانا قبرستان دریافت

نو روز تک سرنگ میں پھنسے رہنے کے بعد ان کی بحفاظت بازیابی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے باقی کارکنوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ 150 سے زائد افراد کے اب بھی مختلف سرنگوں میں محصور ہونے کا خدشہ ہے۔حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن اس وقت کم از کم چھ ہائیڈرو پاور سرنگوں میں جاری ہے۔ جمعہ کو تریشولی 3 اے ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ سے دو کارکنوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ دیگر پھنسے افراد تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔امدادی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وقت سے مقابلہ کرتے ہوئے باقی کارکنوں کو زندہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریسکیو کارروائیوں میں بھاری مشینری اور خصوصی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

 

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد کروڑوں کا خزانہ نکل آیا

Previous Post
خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات