پشاور کے علاقے وزیر کالونی، گلی نمبر 14، پتنگ چوک، اباسین یونیورسٹی کے قریب واقع انسائڈ پبلک سکول سسٹم کی خستہ حال دیوار اچانک منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں متعدد بچے زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق سکول کی دیوار گرنے سے بچے اس کی زد میں آئے، تاہم زخمی بچوں کو ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر گھروں کو روانہ کردیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سکول کی عمارت اور اس کی دیواریں خستہ حال ہیں، جبکہ عمارت کی تعمیر اور حالت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچویں جماعت تک تعلیم فراہم کرنے والے اس سکول کے مالک کو بچوں کے والدین متعدد مرتبہ عمارت کی خراب حالت سے متعلق شکایات کرچکے تھے، لیکن مبینہ طور پر اس جانب توجہ نہیں دی گئی۔
واقعے کے بعد محکمہ تعلیم کی انسپکشن ٹیموں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ خستہ حال عمارت میں بچوں کو تعلیم دینے والے سکول کے خلاف پہلے کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور عمارت کی حفاظتی صورتحال کا معائنہ کیوں نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق سکول کا مالک بااثر شخصیت بتایا جاتا ہے۔ واقعے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت، بچوں کی حفاظت اور متعلقہ حکام کی نگرانی کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ تاحال زخمی بچوں کی درست تعداد، ان کی طبی صورتحال اور واقعے پر محکمہ تعلیم یا سکول انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دیرکالونی حادثے کی رپورٹ تیار، سکول کی عمارت رجسٹرڈ ہی نہیں تھی

