چین میں اعلیٰ معیار اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر پاکستانی چلغوزہ ایک اہم برآمدی مصنوعات کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں قدرتی ماحول میں پیدا ہونے والا یہ قیمتی خشک میوہ اپنے منفرد ذائقے، غذائی افادیت اور اعلیٰ معیار کے باعث عالمی منڈیوں میں شہرت رکھتا ہے تاہم بہترین معیار اور چین سے جغرافیائی قربت کے باوجود پاکستانی چلغوزہ ابھی تک چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی پریمیم خشک میوہ جات مارکیٹ میں محدود حصہ رکھتا ہے۔۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق پاکستان میں چلغوزے کے جنگلات بنیادی طور پر شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بعض علاقوں میں واقع ہیں۔ جیلن انٹرنیشنل اسٹڈیز یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر امجد زرین کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان ملک کی مجموعی چلغوزہ پیداوار کا تقریباً 80 سے 85 فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں سالانہ 1,700 سے 2,000 میٹرک ٹن جبکہ جنوبی وزیرستان میں 800 سے 900 میٹرک ٹن چلغوزہ پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی سالانہ چلغوزہ پیداوار عموماً 2,100 سے 2,900 میٹرک ٹن کے درمیان رہتی ہے، جبکہ موافق موسمی حالات میں اس سے زیادہ پیداوار بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی چلغوزے کی چینی مارکیٹ میں طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ صحت بخش اسنیکس اور اعلیٰ معیار کی درآمدی غذائی مصنوعات میں صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔
مشینری کی درآمدات میں اضافہ، پاکستان کی درآمدی ساخت میں بہتری
عوامی جمہوریہ چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کے اعداد و شمار کے مطابق2023 سے 2025 کے درمیان چین کو پاکستان کے چلغوزہ برآمدات تقریباً دوگنی ہو گئیں۔ اے ایم انٹرپرائززکے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالمتین نے بتایا کہ ان کی کمپنی گزشتہ 12 سال سے پاکستانی چلغوزے چین برآمد کر رہی ہے۔ ان کے مطابق چینی صارفین پاکستانی چلغوزے کو اس کی باریک چھلکی، خستہ ساخت اور ہلکے ذائقے کی وجہ سے خاص طور پر پسند کرتے ہیں۔ تاجروں کے مطابق پاکستان کے تقریباً 80 سے 90 فیصد چلغوزہ برآمدات اب چینی مارکیٹ کے لیے مختص ہیں۔چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران چین کو پاکستان کی چلغوزہ برآمدات میں مضبوط اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برآمدی حجم 579.8 ٹن سے بڑھ کر 1,147 ٹن تک پہنچ گیا، جو تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔ اسی عرصے میں برآمدی آمدنی 2023 میں 8.2 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 18.8 ملین امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچی، جبکہ 2025 میں معمولی کمی کے ساتھ 17.9 ملین امریکی ڈالر رہی۔رپورٹ کے مطابق 2014 سے چین کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات رکھنے والے تاجرعبدالمتین نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان زرعی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اہم شعبوں میں جدید صفائی اور درجہ بندی کے نظام، ڈی ہائیڈریشن ٹیکنالوجی، روسٹنگ اور ڈیپ پروسیسنگ سہولیات، جدید پیکیجنگ، اور کولڈ چین لاجسٹکس شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کا تعاون مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، شیلف لائف بڑھانے، برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور پاکستانی برآمد کنندگان کو عالمی منڈیوں کے لیے اعلیٰ معیار کی ریٹیل مصنوعات تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
خلیجی بحران سے پاکستان کی لیبر مارکیٹ کو دوہرا دھچکا لگنے کا خطرہ
مزید برآں، ای کامرس کے شعبے میں تعاون بڑھانے سے پاکستانی چلغوزوں کو چینی صارفین تک زیادہ وسیع رسائی حاصل ہوگی اور دوطرفہ زرعی تجارت مزید مضبوط ہو گی۔عالمی سطح پر مضبوط طلب کے باعث حالیہ برسوں میں پاکستان کے اندر چلغوزے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق26ـ2025 کے دوران اسلام آباد میں چلغوزے کی قیمت 4,500 سے 8,000 پاکستانی روپے فی کلوگرام کے درمیان ہے، جبکہ برآمدی معیار کے چلغوزے 12,000 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو سکتے ہیں۔ عبدالمتین کے مطابق 2025 میں چین میں چلغوزے کی اوسط قیمت 130 یوان فی کلوگرام رہی۔امجد زرین نے سی ای این کو بتایا کہ وانا بازار میں 2025 کے دوران چلغوزے کی قیمت تقریباً 2,200 سے 2,500 روپے فی کلوگرام رہی، جو سردیوں میں موسمی طلب کے باعث بڑھ کر تقریباً 2,700 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی، اور رواں سال بھی قیمتیں تقریباً اسی سطح پر برقرار ہیں۔ماہرین نے کہا ہے کہ چین پاکستانی چلغوزے کے لیے سب سے امید افزا برآمدی منڈی ہے، جس کی وجہ اس کی وسیع صارفین کی بنیاد اور اعلیٰ معیار کی درآمدی غذائی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب ہے۔ تاہم، بہترین معیار کے باوجود پاکستان کا چلغوزہ سیکٹر کومحدود پراسیسنگ سہولیات، ناکافی پیکیجنگ اور غیر مستقل معیار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ چینی سرمایہ کاروں، فوڈ پروسیسنگ کمپنیوں اور ای کامرس پلیٹ فارمز کے ساتھ قریبی تعاون سے نہ صرف اس صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکتا ہے بلکہ ویلیو ایڈڈ برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق پراسیسنگ، برانڈنگ، سرٹیفیکیشن اور سپلائی چین مینجمنٹ میں بہتری پاکستانی چلغوزے کو چین کی پریمیم خشک میوہ جات مارکیٹ میں زیادہ مؤثر انداز میں مسابقت کے قابل بنا سکتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں 43ارب 51کروڑ کے 3پن بجلی منصوبوں پر پیشرفت جاری
پاکستان کی 10بڑی مصنوعات سے 19.43 ارب ڈالر کی آمدن

