Skip to main contentSkip to footer

پاکستان میں گندم کی کاشت میں 6لاکھ 70ہزار ایکڑ اضافہ

پاکستان میں گندم کی کاشت میں 6لاکھ 70ہزار ایکڑ اضافہ

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان نے ربیع 2025-26 کے دوران گندم کی کاشت کے رقبے میں 6 لاکھ 70 ہزار ایکڑ کا اضافہ کیا جس کے نتیجے میں مجموعی کاشت شدہ رقبہ 2 کروڑ 31 لاکھ 90 ہزار ایکڑ تک پہنچ گیا جبکہ گندم کی پیداوار بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن ہو گئی۔دستاویز کے مطابق ربیع 2024-25 میں گندم کی کاشت کا رقبہ 2 کروڑ 25 لاکھ 20 ہزار ایکڑ تھا جو ربیع 2025-26 میں بڑھ کر 2 کروڑ 31 لاکھ 90 ہزار ایکڑ ہو گیا۔ اسی طرح پیداوار 2025 میں 2 کروڑ 83 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2026 میں 2 کروڑ 96 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔وزارت نے گندم کی پیداوار میں اضافے کی وجوہات میں بروقت پالیسی اقدامات، تصدیق شدہ بیج اور کھاد کی بہتر دستیابی کے آغاز سے قبل عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 کا اعلان کیا گیا

 

جس سے کاشتکاروں کو مثبت معاشی اشارے ملے۔ اس دوران گندم کی قیمت اور سازگار منڈی حالات کو قرار دیا جنہوں نے کاشتکاروں کو گندم کی کاشت بڑھانے کی ترغیب دی۔دستاویز کے مطابق ربیع کے موسم کے آغاز سے قبل عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 کا اعلان کیا گیا جس سے کاشتکاروں کو مثبت معاشی اشارے ملے۔ اس دوران گندم کی قیمت 40 کلوگرام کے لیے 3500 سے 3900 روپے کے درمیان رہی جو گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی۔وزارت نے کہا کہ بہتر قیمتوں کے ماحول نے کسانوں کو زیادہ منافع فراہم کیا اور حکومت کی منڈی پر مبنی اصلاحات اور معاون اقدامات پر مثبت ردعمل کی عکاسی کی۔عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 کے تحت وفاقی حکومت نے گندم کے شعبے میں اصلاحات کرتے ہوئے سرکاری خریداری کا نظام ختم کر دیا اور نجی شعبے کو خریداری، ذخیرہ کاری، ترسیل اور تجارت کی اجازت دی۔وزارت کے مطابق ان اصلاحات سے سرکاری مالی بوجھ میں کمی آئی، قیمتوں میں شفافیت بہتر ہوئی

مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی

 

ملک بھر میں گندم کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنی اور گندم کی قدر افزائی کے نظام کو زیادہ مسابقتی اور پائیدار بنانے میں مدد ملی۔پالیسی پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے قومی گندم نگرانی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کر رہے ہیں۔ کمیٹی میں صوبائی اور علاقائی خوراک و زراعت کے سیکریٹریز بھی شامل ہیں۔وزارت کے مطابق کمیٹی اب تک 13 اجلاس منعقد کر چکی ہے جن میں نجی شعبے کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکمت عملی کے تحت گندم کے ذخائر کی خریداری کے معاملات بھی زیر غور آئے۔اصلاحاتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے وزارت نے قومی گندم پالیسی 2026-30 کا ابتدائی مسودہ تیار کر کے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو تجاویز کے لیے بھیج دیا ہے۔

کینیڈا نے پاکستانیوں کیلئے اسپانسر شپ پروگرام معطل کردیا

 

مجوزہ پالیسی کا مقصد گندم کے شعبے کے لیے ایک طویل المدتی نظام قائم کرنا ہے جو مسابقتی، شفاف اور منڈی کی بنیاد پر ہو، جبکہ غذائی تحفظ، کسانوں کی فلاح، مثر ترسیلی نظام، حکمت عملی کے تحت ذخائر کا انتظام، نجی شعبے کی شمولیت اور پائیدار ترقی کو فروغ دے۔وزارت نے بیج کی دستیابی میں ہونے والی پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے مطابق ربیع 2025-26 کے دوران تصدیق شدہ گندم کے بیج کے استعمال میں تقریبا 37 فیصد اضافہ ہوا جس سے فی ایکڑ پیداوار بہتر بنانے میں مدد ملی۔وزیراعظم کی ہدایات پر وفاقی حکومت نے تصدیق شدہ گندم کے بیج کی صوبوں کے درمیان بلا تعطل ترسیل یقینی بنائی، خاص طور پر پنجاب سے دیگر صوبوں تک، جبکہ ایک خصوصی کمیٹی نے پورے موسم کے دوران بیج کی نقل و حرکت کی نگرانی کی۔فصل کے موسم میں کھاد کی فراہمی میں بھی بہتری آئی۔

امریکہ ایران کشیدگی، پاکستان کا امن کوششیں جاری رکھنے کا اعلان

 

پنجاب میں یوریا کھاد کے استعمال میں تقریبا 27 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ مناسب قیمتوں پر مسلسل دستیابی رہی۔وفاقی حکومت نے دو گیس سے چلنے والے یوریا کارخانوں کو مسلسل گیس فراہمی برقرار رکھی جس سے زیادہ طلب کے دوران مقامی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوا۔صوبائی سطح پر سندھ حکومت نے تقریبا 55 ارب روپے کی کھاد سبسڈی متعارف کرائی جس کے تحت کسانوں کو فی ایکڑ ایک بوری ڈی اے پی اور دو بوریاں یوریا فراہم کی گئیں۔وزارت کے مطابق اس سبسڈی سے زرعی اخراجات میں کمی آئی، گندم کی کاشت کی حوصلہ افزائی ہوئی اور سندھ موجودہ ربیع سیزن میں اپنے کاشت کے ہدف سے بھی تجاوز کر گیا۔پنجاب نے بھی زرعی مشینی عمل کو فروغ دیتے ہوئے بلاسود یا کم شرح منافع پر قرضوں کے ذریعے ٹریکٹرز اور جدید زرعی آلات فراہم کیے۔ وزارت نے کہا کہ بہتر مشینی سہولتوں سے زمین کی بروقت تیاری، بوائی اور فصل کے انتظام میں مدد ملی، جس کے نتیجے میں گندم کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔

 

ال نینو نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی

Next Post
جون میں گاڑیوں کی فروخت میں 28 فیصد اضافہ
Previous Post
ارجنٹینا کو فیفا ورلڈ کپ سے نکالنے کی درخواست پر 2کروڑ 33 لاکھ افراد کے دستخط