Skip to main contentSkip to footer

حکومتی اقدامات سے کاٹن سٹیک ہولڈرز کی مایوسی بڑھ گئی

پاکستان میں کپاس کی پیداوار

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا ہے کہ پاور ٹیرف اور مارک اپ کی شرحوں میں اضافے، برآمد کنندگان کی بجائے درآمد کنندگان کے لئے غیر معمولی رعایتوں اور کراپ زوننگ قوانین پر عمل درآمد کے فقدان کے باعث کاٹن اسٹیک ہولڈرز کی مایوسی بڑھ گئی ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس بھارت نے اپنی کاٹن ایکسپورٹس بڑھانے کے لیے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات کی مدت 31دسمبر تک بڑھا دی ہے، چین نے حیران کن طور پر امریکا سے بڑے پیمانے پر روئی کی درآمدات کا آغاز کردیا ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں آج کل پاکستان میں کپاس کی بحالی کے لئے چند اقدامات کرنے جا رہی ہے

اوگرا نے اکتوبر کے لیے آر ایل این جی قیمتوں میں 15فیصد اضافہ کردیا

جس میں اپٹما کی سربراہی میں ایک کاٹن بورڈ کا قیام اور کاٹن سیڈ کی درآمد میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں لیکن پاکستان میں کپاس کی تباہی میں سب سے بڑی وجہ کاٹن زونز میں گنے کی کاشت اور یہاں نئی شوگر ملز کے قیام پر پابندی کے اقدامات نظر نہ آنا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چین سے اصل نرخوں سے کم قیمت پر کروڑوں میٹر فیبرکس اور لاکھوں ٹن سوتی دھاگے کی مبینہ درآمدات کے باعث مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر کے غیر معمولی معاشی بحران میں مبتلا ہونے سے نیشنل ٹیرف کمیشن نے پانچ بڑی ٹیکسٹائل کی شکایات کو درست قرار دیتے ہوئے اس اسکینڈل کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بارے متاثرہ تمام ٹیکسٹائل ملز سے اپنی شکایات این ٹی سی کے پاس درج کرانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارت نے یورپی یونین کے رکن ممالک میں 2027 سے ایف ٹی اے کے تحت آزادانہ تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے پر اپنی ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کی غرض سے ڈیوٹی فری روئی کی مدت میں مزید دو ماہ کا اضافہ کردیا ہے اسی طرح چین نے بھی امریکا سے بڑے پیمانے پر روئی کی خریداری سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔ امریکا سے ایک ہفتے میں مختلف ممالک کے خریداروں نے 2لاکھ 16ہزار 500گانٹھوں کے برآمدی معاہدے کیے ہیں

بزنس لے کر آئیں، میں نہیں پوچھوں گی آپ پیسہ کہاں سے لا رہے ہیں، مریم نواز

جس میں سب سے زیادہ چین 52ہزار 100گانٹھوں کے معاہدے کے ساتھ سرفہرست رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ معیاری روئی کی محدود دستیابی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، بین الاقوامی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں کمی اور خلیج جنگ کے باعث گزشتہ ہفتے پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں مندی کا رحجان غالب رہا اور روئی کی فی من قیمت میں 100 تا 200روپے کی کمی واقع ہوئی تاہم 3نومبر کو کپاس کی مقامی پیداوار کے تازہ ترین اعدادوشمار آنے کے بعد پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کا واضح رحجان سامنے آسکے گا۔انہوںنے کہاکہ پاک افغان کشیدہ حالات اور سرحدیں سیل ہونے کی وجہ سے افغانستان میں پیدا ہونے والی 10 سے 12لاھ روئی کی گانٹھوں کی درآمدات بھی گذشتہ ایک سال سے معطل ہیں۔ تاہم یہ اطلاعات زیرگردش ہیں کہ افغانستان اب ترکی کو بذریعہ ریلوے روئی برآمد کررہا ہے۔ ابتدائی طور پر 600ٹن روئی کا ایک کنسائنمنٹ ترکی روانہ کردیا گیا ہے۔.

 

ایل پی جی کی قیمت کم نہ ہو سکی، صارفین 600 روپے فی کلو خریدنے پر مجبور

اگلی پوسٹ
تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی نئی اسکیم بھی ناکام ہوگئی
پچھلی پوسٹ
عماد وسیم بابر اعظم پر ہونے والی تنقید کے دفاع میں بول پڑے