وفاقی حکومت کی جانب سے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے متعارف کروائی جانے والی اسکیم کو پذیرائی نہ مل سکی ،نئی آسان رجسٹریشن اسکیم کے تحت اب تک صرف 1750 دکانداروں نے فائدہ اٹھایا جس پر ایف بی آر نے اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے تاجروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق ریٹیلرز کی اسکیم سے صرف 220 نئے دکاندار ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے،ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ایل پی جی کی قیمت کم نہ ہو سکی، صارفین 600 روپے فی کلو خریدنے پر مجبور
ذرائع کے مطابق حکومت نے ریٹیلرز کی ٹیکس اسکیم سے 50 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا مگر حکومت کو ری ٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مشکلات کا سامنا ہے، نئی آسان رجسٹریشن اسکیم کے تحت اب تک صرف 1750 دکانداروں نے فائدہ اٹھایا۔نجی ٹی وی کے مطابق ایف بی آر ملک میں ری ٹیل شعبے کے 36 لاکھ ممکنہ نان فائلرز کی نشاندہی کرچکا ہے، ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر کا مارکیٹوں کی جیوٹیگنگ کا منصوبہ ہے، ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانے عائد کیے جاسکتے ہیں۔نان فائلرز کو پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، تیسرے ماہ نان فائلز کو 50 ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔
بزنس لے کر آئیں، میں نہیں پوچھوں گی آپ پیسہ کہاں سے لا رہے ہیں، مریم نواز
ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں کی دکانیں سیل کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے۔واضح رہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی، اکتوبر تک ایف بی آر کو 76 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہوگئے۔
سندھ میں پراپرٹی ریونیو بڑھانے کیلئے 15 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری

