اسرائیل کے وزیراعظم اور لیکوڈ پارٹی کے سربراہ بنیامین نیتن یاہو نے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد دائیں بازو کی حکومت بنانے پر زور دیا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ صہیونی عوام میں دائیں بازو کی جماعتوں کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوئی ہے، تاہم ابتدائی نتائج اور ایگزٹ پولز کے مطابق کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ایک مضبوط قومی دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ بدھ کی صبح تک 41 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک نیتن یاہو کی جماعت لیکود 28 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے، جبکہ سابق اسرائیلی آرمی چیف گادی آئزنکوت کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد یشار کو 21 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
اسرائیل انتخابات ،66فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ،کوئی جماعت اکثریت حاصل نہ کرسکی
نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کا اتحاد 57 نشستوں کے ساتھ جبکہ مخالف پرو چینج اتحاد 47 اور عرب جماعتوں پر مشتمل گروپ 16 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔اسرائیلی پارلیمنٹ جسے کنیست کہا جاتا ہے، کی کل 120 نشستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے 61 اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو کا بلاک اپنے مخالفین سے آگے ہے، تاہم نمبر گیم میں وہ اب بھی 4 نشستیں پیچھے ہے۔گنتی مکمل ہونے تک صورتحال مزید تبدیل ہو سکتی ہے لیکن فی الوقت دونوں میں سے کسی بھی بلاک کے لیے واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنانا انتہائی پیچیدہ مرحلہ نظر آ رہا ہے۔دوسری جانب ایگزٹ پولز سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کا اتحاد مرکزی اپوزیشن اتحاد سے معمولی برتری رکھتا ہے، لیکن دونوں میں سے کوئی بھی پارلیمان میں حکومت بنانے کیلئے درکار اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 27 اکتوبر کو جاری تازہ ترین صورت حال میں 27 لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی
ٹرمپ کی مختصر ترین مدت کیلئے پریس سیکریٹری نے خاموشی توڑ دی
جو مجموعی ووٹوں کا تقریبا 55.4 فیصد بنتے ہیں۔ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو 20.8 فیصد درست ووٹ ملے، جبکہ ایزن کوٹ کی یاشار پارٹی 17.06 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ نفتالی بینیٹ کے اتحاد ٹوگیدر نے 9.2 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کرلی، جبکہ عرب قیادت میں قائم جوائنٹ لسٹ اس سے پیچھے چلی گئی۔عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر 18 سے 19 پارلیمانی نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم دونوں بڑے سیاسی دھڑوں نے حکومت سازی کے لیے ان جماعتوں کو ساتھ ملانے کا عندیہ نہیں دیا۔اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق ووٹر ٹرن آٹ 77.7 فیصد رہا، جو تقریبا تین دہائیوں میں بلند ترین شرح قرار دیا گیا ہے۔انتخابی نتائج ابھی ابتدائی ہیں اور ووٹوں کی مزید گنتی کے ساتھ ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس لیے فی الحال یہ واضح نہیں کہ حکومت سازی کے لیے کس سیاسی اتحاد کو مطلوبہ حمایت حاصل ہوگی۔
میری حمایت نے نیتن یاہو کی شکست کو کامیابی میں بدل دیا، ٹرمپ کا دعویٰ

